یمنی میزائل کیسے امریکی ایف۔16 جنگی طیاروں کا شکار کرتے،خصوصی رپورٹ

خصوصی رپورٹ:

امریکی فضائی و خلائی افواج کے جریدے نے منگل کے روز ایک رپورٹ شائع کی ہے جس میں انکشاف کیا گیا کہ یمن کی فضائی حدود میں امریکی F-16 جنگی طیاروں کے عملے کے دو ارکان محض 15 سیکنڈ کے فاصلے پر موت سے بچ نکلے۔ فارس نیوز ایجنسی کے بین الاقوامی ڈیسک کے مطابق اس جریدے نے رپورٹ کیا کہ یہ واقعہ 27 مارچ 2025 کی شام پیش آیا۔
 رپورٹ کے مطابق یمن کے فضائی دفاع نے زمین سے فضا میں مار کرنے والے 6 میزائلوں کے ذریعے ان دونوں طیاروں کو اُس وقت گھیر لیا، جب وہ بحیرۂ احمر کی سمت پسپائی اختیار کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان جنگی طیاروں کے پائلٹ ولیم پارکس اور مائیکل بلیا تھے۔ انہوں نے بتایا کہ یمن کے ایک پیچیدہ دفاعی آپریشن میں پھنسنے کے بعد انہوں نے نہایت خوفناک لمحات گزارے، وہ لمحہ جب امریکی ’’شکاری‘‘ چند ہی سیکنڈ میں خود ’’شکار‘‘ بن گیا۔
جریدے نے ایک پائلٹ کے حوالے سے لکھا ہے کہ یمنی میزائل عین ہمارے طیارے کے پر کے نیچے سے گزرا، اتنا قریب کہ ہم اس کی گرج سن سکتے تھے… یہ لمحہ آج بھی میرے ذہن میں نقش ہے۔ رپورٹ کے مطابق یمن کی مسلح افواج کو اس فضائی کارروائی کی پیشگی اطلاع حاصل تھی، جو امریکی دشمن کی نقل و حرکت کے بارے میں یمن کی اطلاعاتی نفوذ کی نشاندہی کرتی ہے۔
یمنی دفاع نے امریکیوں کو شطرنج میں ’’مات‘‘ دی:
جریدے کے مطابق امریکی فوجی تجزیات یمن کی حکمتِ عملیوں میں حیران کن پیش رفت کو ظاہر کرتے ہیں۔ یمنی افواج نے ریڈار سے رہنمائی پانے والے زمین سے فضا میں مار کرنے والے میزائلوں کو بصری نگرانی اور الیکٹرو۔آپٹیکل سینسرز کے ساتھ یکجا کر دیا تھا۔ اس امتزاج نے امریکیوں کے جدید سینسرز اور ابتدائی انتباہی نظاموں کو بھی دھوکا دے دیا، جس کے نتیجے میں پائلٹس کو میزائلوں کے پہنچنے سے محض 15 تا 20 سیکنڈ پہلے ہی خطرے کا احساس ہوا۔ فوجی ماہرین کے نزدیک یہ واقعہ محض ایک اتفاق نہیں، بلکہ جنگ “فتحِ موعود اور جہادِ مقدس” میں یمن کے فضائی دفاع کی کامیابیوں کا تسلسل ہے۔
یمن کی فضا، امریکی ہوائی جہازوں کے لیے ’’بلیک ہول‘‘:
امریکہ اور برطانیہ کے یمن پر حملوں کے آغاز کے بعد سے، صنعا کی مسلح افواج نے امریکی MQ-9 نوعیت کے بڑی تعداد میں جاسوسی و جنگی ڈرونز مار گرائے ہیں۔ اسی بنا پر یمن کی فضا کو امریکی ہوائی پلیٹ فارمز کے لیے ایک “سیاہ سوراخ” یا بلیک ہول قرار دیا جا رہا ہے۔ تیز رفتار اور جدید F-16 جنگی طیاروں کی نگرانی اور ان کے جدید جیمنگ سسٹمز کو عبور کرنے کی صلاحیت اس امر کی تصدیق کرتی ہے کہ یمن “غیر فعال دفاع” کے مرحلے سے نکل کر امریکی جنگی طیاروں اور ڈرونز کے خلاف پیچیدہ فضائی کمینوں کے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔
اسی امریکی جریدے نے امریکی فوجی کمانڈ میں انتشار اور بے یقینی کی کیفیت سے بھی پردہ اٹھایا۔ رپورٹ کے مطابق، جنرل مائیکل کوریلا (کمانڈر سینٹکام) کو یمن میں فضائی کارروائیوں کی کمان مرکزی فضائیہ سے ہٹا کر مشترکہ خصوصی آپریشنز کمانڈ کے حوالے کرنا پڑی، یہ ایک غیر معمولی اقدام تھا اور غالباً پہلی بار اتنے وسیع پیمانے کی فضائی کارروائی خصوصی آپریشنز کمانڈ کے تحت چلائی گئی، جو یمن کی صلاحیتوں کو ناکارہ بنانے میں شرمناک ناکامی کی عکاسی کرتا ہے۔
Scroll to Top