امریکا کی جانب سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے دیا گیا الٹی میٹم ختم ہوگیا ہے، جس کے بعد عالمی مارکیٹ میں تیل کی قیمتوں میں اضافے کا خدشہ ہے جب کہ اہم سمندری گزرگاہ کی بحالی کے لیے برطانیہ اور فرانس نے سفارتی کوششیں تیز کر دی ہیں۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے مشرقِ وسطیٰ کی صورت حال پر ایک اہم میڈیا بریفنگ کے دوران اعلان کیا ہے کہ ایران کے ساتھ جنگ بندی تو برقرار ہے لیکن امریکا اب ایران کی معاشی ناکہ بندی کے لیے سخت ترین اقدامات کرنے جا رہا ہے۔
صدر ٹرمپ نے واضح طور پر کہا ہے کہ ایران کو کسی صورت ایٹمی ہتھیار بنانے کی اجازت نہیں دی جائے گی اور اس مقصد کے لیے ایران کی فوجی اور بحری طاقت کو پہلے ہی شدید نقصان پہنچایا جا چکا ہے۔
صدر ٹرمپ نے دعویٰ کیا ہے کہ ایرانی بحریہ کے 158 جہاز تباہ کر دیے گئے ہیں اور اب امریکا آبنائے ہرمز کی مکمل ناکہ بندی کر رہا ہے تاکہ ایران اپنا تیل عالمی مارکیٹ میں نہ بیچ سکے۔
امریکا کی طرف سے آبنائے ہرمز کی ناکہ بندی کے لیے دیا گیا الٹی میٹم ختم ہوگیا ہے، امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے پاکستانی وقت کے مطابق شام 7 بجے سے ناکہ بندی کرنے کا اعلان کیا تھا۔
امریکی سینٹرل کمانڈ (سینٹ کام) نے خبردار کیا ہے کہ کسی بھی ایرانی جہاز کو آبنائے ہرمز سے باہر نکلنے نہیں دیا جائے گا، ایران کو ٹول کی ادائیگی کرنے والے جہازوں کو بھی بندش کا سامنا کرنا ہوگا، ناکہ بندی کا نفاذ خلیج اور بحیرہ عمان میں بھی ایرانی بندرگاہوں پر ہوگا تاہم دیگر جہازوں کی آمد ورفت میں کوئی رکاوٹ نہیں ڈالی جائے گی۔
امریکی نیوی کی جانب سے آبنائے ہرمز میں جہازوں کی آمد و رفت سے متعلق نئے اقدامات سامنے آئے ہیں، جن کے بعد خلیج عمان اور بحیرہ عرب میں کشیدگی میں اضافہ دیکھا جا رہا ہے۔
امریکی نیوی کی جانب سے کہا گیا ہے کہ آبنائے ہرمز میں آنے اور جانے والے جہازوں کو روکا جائے گا۔ ایران کی بندرگاہوں سے روانہ ہونے والے جہازوں کو بھی روکنے کی کارروائی کی جائے گی اور ایسے جہازوں کو روکنے کے ساتھ ساتھ انہیں ضبط بھی کیا جا سکتا ہے۔