تکفیری دہشتگرد بمبار کون تھا؟امامبارگاہ کی ریکی کب کی اہم تفصیلات سامنے آگئیں

 اسلام 24/7کے مطابق اسلام آبا د میں درجنوں نمازیوں کو موت کی نیند سلانے والا خودکش بمبار یاسرکا تعلق پشاور سے تھا،
گزشتہ پانچ ماہ تک افغانستان میں مقیم رہا جہاں اس نے اسلحہ چلانے اور خودکش حملوں کی باقاعدہ تربیت حاصل کی۔ گزشتہ برس مئی میں افغانستان گیا تھا اور جون میں واپس آیا تھا۔واپسی کے بعد جون میں ضلع باجوڑ گیا، جہاں اس نے ایک سم کارڈ ایکٹیویٹ کیا 27 جون سے اکتوبر تک باجوڑ میں مقیم رہا، جس کے بعد وہ نوشہرہ منتقل ہو گیا۔

دو فروری کو واقعے سے قبل کرائم سین کی ریکی بھی کی تھی، جس سے منصوبہ بندی کے شواہد ملے ہیں۔وزیر دفاع خواجہ محمد آصف کے مطابق اسلام آباد میں خودکش حملہ کرنے والا پاکستانی شہری تھا۔ جو کچھ عرصہ قبل افغانستان چلا گیا تھا۔

خودکش حملہ آور گزشتہ روز یا آج نوشہرہ سے اسلام آباد آیا، ہم خودکش حملہ آور کے رشتے داروں تک پہنچ گئے ہیں۔یاسر اپنے بہنوئی عثمان کے ساتھ مسلسل رابطے میں تھادہشت گرد یاسر کے گھر پر چھاپہ مارا گیا ہے۔

چھاپے کے دوران یاسر کے دو بھائی بلال اور ناصر، بہنوئی عثمان اور ایک خاتون کو گرفتار کر لیا گیا جائے وقوعہ سے خودکش بمبار کا شناختی کارڈ بھی برآمد ہوا جس کی بنیاد پر حملہ آور کی شناخت یاسر کے نام سے ہوئی ہے۔

اسلام آباد میں کالعدم تکفیری گروہ کے اجتماع سے قبل امام بارگاہ میں خوفناک دھماکہ 20سے زائد شہید

شناختی کارڈ کے مطابق اس کا مستقل پتہ عباس کالونی، شیروجنگی چارسدہ روڈ پشاور درج ہے جبکہ موجودہ پتہ گنج محلہ قاضیاں پشاور بتایا گیا ہے۔ سوشل میڈیا پر دہشتگرد یاسر کے شناختی کارڈ کی تصویریں بھی وائرل ہیں۔

ایک صارف نے سوال اٹھایا کہ شناختی کارڈ کیسے محفوظ رہ گیا جس پر ایک صارف نے جواب میں لکھا کہ بغیر شناختی کارڈ وہ پشاور سے اسلام آباد تک سفر ہی نہیں کرسکتا پاکستانی شناختی کارڈ پولی وائنل کلورائیڈ اور کمپوزٹ پولی ایتھیلین ٹیرفتھالیٹ کے میٹیریل سے بنتا ہے جو آگ نہیں پکڑتا، یہی وجہ ہے جو شناختی کارڈ بچ گیا۔

Scroll to Top