اسرائیل کا مذاکرات کی آڑ میں خطے میں مستقل جنگ لڑتے رہنے اور علاقوں پر قبضے کا منصوبہ

ایک طرف امریکا اور ایران جنگ بندی کو حتمی شکل دینے کی کوششوں میں مصروف ہیں، تو دوسری طرف اسرائیل اپنے پڑوسی ممالک کی زمین پر مزید قبضہ کر کے مشرقِ وسطیٰ میں ایک طویل جنگ کی تیاری کر رہا ہے۔ اسرائیل کی جانب سے غزہ، شام اور اب لبنان میں قائم کیے جانے والے ’بفر زونز‘ یعنی حفاظتی علاقے اس کی اسٹریٹجک تبدیلی کی عکاسی کرتے ہیں۔

برطانوی خبر رساں ایجنسی ’رائٹرز‘ سے گفتگو کرتے ہوئے چھ اسرائیلی فوجی اور دفاعی حکام نے تصدیق کی ہے کہ یہ اقدامات ملک کو مستقل جنگ کی حالت میں رکھنے کے منصوبے کا حصہ ہیں۔

اسرائیلی قیادت کا ماننا ہے کہ ڈھائی سالہ تنازع کے بعد یہ حقیقت واضح ہو گئی ہے کہ حزب اللہ، حماس اور خطے میں موجود دیگر مسلح گروہوں کو مکمل طور پر ختم نہیں کیا جا سکتا۔

کارنیگی اینڈومنٹ فار انٹرنیشنل پیس کے ماہر نیتھن براؤن کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے رہنما اس نتیجے پر پہنچے ہیں کہ وہ اپنے مخالفین کے خلاف ایک ایسی جنگ میں ہیں جو کبھی ختم نہیں ہوگی، اس لیے وہ اب دشمن کو ڈرانے اور منتشر کرنے کی پالیسی پر عمل پیرا ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگرچہ اسرائیل نے ایران پر حملے روکنے پر حامی بھر لی ہے، لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ حزب اللہ کے خلاف اپنی مہم نہیں روکے گا۔

اسرائیلی فوج نے جنوبی لبنان کے تقریباً 8 فیصد حصے پر قبضہ کر کے اسے بفر زون بنانے کا منصوبہ بنایا ہے تاکہ اسرائیلی سرحدی قصبوں کو حزب اللہ کے حملوں سے بچایا جا سکے۔

ایک سینئر اسرائیلی فوجی اہلکار نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر رائٹرز کو بتایا کہ ہمارا مقصد سرحد سے 5 سے 10 کلومیٹر تک کا علاقہ صاف کرنا ہے تاکہ دشمن براہِ راست ہماری آبادیوں کو نشانہ نہ بنا سکے۔

اسرائیل نے اس علاقے کے لاکھوں رہائشیوں کو گھر چھوڑنے کا حکم دے دیا ہے اور ان دیہاتوں کو حزب اللہ کے ٹھکانے قرار دے کر مسمار کرنا شروع کر دیا ہے۔

اسرائیلی وزیر دفاع اسرائیل کاٹز نے جنوبی لبنان کی صورتحال کا موازنہ غزہ سے کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد کے ساتھ واقع اُن دیہاتوں کو تباہ کر دیا جائے گا جو حزب اللہ کے مورچوں کے طور پر استعمال ہوتے ہیں، بالکل ویسے ہی جیسے غزہ کے شہروں خان یونس اور رفح میں کیا گیا۔

وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے بھی اپنے ایک پیغام میں فخر سے کہا ہے کہ ہم نے اپنی سرحدوں سے پرے حفاظتی پٹی قائم کر لی ہے، چاہے وہ غزہ ہو، شام ہو یا لبنان کا وسیع بفر زون۔

دوسری جانب بین الاقوامی قانون کے ماہرین اور انسانی حقوق کی تنظیموں نے شہری املاک کی بڑے پیمانے پر تباہی کو غیر قانونی قرار دیا ہے۔

ماہرِ قانون ایرن شامیر بورر کا کہنا ہے کہ انفرادی تجزیے کے بغیر جنوبی لبنان میں گھروں کو گرا دینا قانون کی خلاف ورزی ہے۔

اُدھر اسرائیلی عوام میں بھی مذاکرات کے ذریعے امن کے حوالے سے شکوک و شبہات پائے جاتے ہیں۔

ایک حالیہ سروے کے مطابق صرف 21 فیصد اسرائیلی سمجھتے ہیں کہ وہ فلسطینیوں کے ساتھ پرامن طریقے سے رہ سکتے ہیں۔

اس صورتحال نے امن کے عمل کو مزید پیچیدہ بنا دیا ہے کیونکہ ایک طرف سفارت کاری کے ذریعے جنگ روکنے کی کوششیں ہو رہی ہیں تو دوسری طرف زمین پر نئی سرحدیں کھینچی جا رہی ہیں۔

Scroll to Top