اربعین شہید رہبر:رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام

ترجمہ: یوشع ظفر حیاتی
بسم اللہ الرحمٰن الرحیم
رہبر عظیم الشان انقلاب حضرت آیت اللہ العظمیٰ شہید سید علی خامنہ ای کی شہادت کے چالیس دن مکمل ہونے اور تیسری مسلط شدہ جنگ سے مربوط اہم مسائل کے بارے میں رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ العظمیٰ سید مجتبیٰ خامنہ ای کا پیغام
________________________________________
﴿إِنَّا فَتَحْنَا لَكَ فَتْحًا مُّبِينًا لِّيَغْفِرَ لَكَ اللَّهُ مَا تَقَدَّمَ مِن ذَنبِكَ وَمَا تَأَخَّرَ وَيُتِمَّ نِعْمَتَهُ عَلَيْكَ وَيَهْدِيَكَ صِرَاطًا مُّسْتَقِيمًا وَيَنصُرَكَ اللَّهُ نَصْرًا عَزِيزًا﴾
ایسے عظیم جرائم کے چالیس دن مکمل ہوچکے ہیں جو دشمنان اسلام اور ایران نے انجام دیئے، اور ہم اس ملت کی تاریخ کے ایک ایسے سنگین ترین عمومی دکھ سے گزر رہے ہیں۔ رہبر عظیم الشان انقلاب اسلامی، والدِ ملت ایران، رہبرِ امت اسلامی اور عصر حاضر میں حق طلب افراد کے پیشوا، سید الشہدائے ایران اور محاذِ مقاومت، خامنه‌ای کبیر (قدس اللہ نفسه الزکیہ) کا جاں گداز داغ!
چالیس روز گزر چکے ہیں کہ ہمارے شہید رہبر کی بلند روح، بارگاہِ الٰہی میں اولیاء، صدیقین اور شہداء کی مہمان بن چکی ہے اور اسی کے ساتھ ساتھ، بڑی تعداد میں دوستوں، کمانداروں اور مجاہدینِ اسلام نیز چند روزہ نوزادوں سے لے کر بوڑھوں تک، مظلوم ہم وطن، اس عظیم فیض سے بہرہ مند ہوئے ہیں۔
چالیس شب و روز گزر چکے ہیں کہ خدائے متعال نے اس امت کے پیشوا کو اپنے مقررہ وقت پر بلا لیا ہے۔ لیکن اس بار، کلیم اللہ کے دور میں جو کچھ ہوا تھا اس کے برعکس، شہید رہبر کے ساتھیوں اور ان کی امت کو حق کے قیام اور باطل کے مقابلے کے لیے مبعوث کیا گیا، اور وہ پہاڑوں کی طرح مضبوط و استوار ہو کر سامری اور اس کے بچھڑے کے مقابل کھڑے ہوگئے، اور پگھلے ہوئے لاوے کی مانند حملہ آوروں اور فرعونیوں پر ٹوٹ پڑے۔
چالیس شب و روز ہورہے ہیں کہ دنیا کے مستکبروں نے دھوکے باز اور جھوٹے نقاب اتار پھینکے ہیں، اور اس قتل و ظلم، جارحیت اور جھوٹ، تباه کاری اور معصوم بچوں کے قتل عام، استبداد و فساد کا کریه و شیطانی چہرہ دکھا دیا ہے۔
لیکن اس کے مقابلے میں، چالیس شب و روز گزر رہے ہیں کہ خمینی کبیر اور عزیز شہید خامنه‌ای کے غیور فرزند اور اسلامِ ناب محمدی (صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم) کے پیروکار، ایک قابل قدر جدوجہد اور بہادری کے ساتھ میدانوں، سڑکوں اور جنگی مورچوں میں موجود ہیں، اور دشمن کے وحشیانہ حملے کے نقصانات و ضرر کے باوجود، تیسری مسلط شده جنگ کو مقدس دفاع کے تیسرے حماسہ میں تبدیل کر چکے ہیں۔ ایران کی آگاه و ہوشیار قوم اگرچہ یہ ثابت کرچکی ہے کہ وہ اپنے شہید رہبر کی جدائی کے اس عظیم غم میں سوگوار ہے، لیکن عاشورائے حسینی کے بلاواسطہ وارثوں سے تأسی لے کر اس داغ سے حماسہ تخلیق کرچکی ہے۔ اور یہ سب کچھ دانت تک مسلح دشمن کو حیرت و استیصال میں مبتلا کر چکا ہے اور دنیا کے آزاد منش انسانوں کو تعریف و تحسین پر مجبور کر چکا ہے۔ اس بار مستکبرین عالم کی جہالت و نادانیِ ۱۴۰۴ ہجری شمسی ک آخری مہینے میں ایران اور انقلاب اسلامی کے نام کی طاقت پکڑنے اور ابھرنے کا ایک نیا باب لے کر آئی ہے، اور اسلامی ایران کا پرچم نہ صرف ہمارے ملکی جغرافیہ، بلکہ دنیا کے حق طلب لوگوں کے دلوں کی گہرائیوں میں لہرا دیا گیا ہے۔
شہید رہبر کی خصوصیات اور ہنرِ
یہ ایک اچھا موقع ہے کہ رہبر عظیم الشان کا تھوڑا سا تعارف کروایا جائے۔ بات ایک ایسے مرد کی ہے جو اپنی شہرت کے باوجود اتنا پہچانا نہیں گیا جتنا کہ مشہور تھا۔ سب جانتے ہیں کہ ہمارے شہید قائد، ایک زمانہ شناس و بصیر فقیہ، انتھک مجاہد، پہاڑ کی طرح مضبوط و استوار، ایک عالمِ عامل و ربانی، ذکر و تہجد و تضرع اور معصومین (صلوات اللہ و سلامہ علیہم اجمعین) کی بارگاہوں میں توسل کرنے والے تھے، اور عمقِ جان سے وعدہ‌های الٰہی پر ایمان رکھتے تھے۔ ان کی دیگر خصوصیات میں ایران دوستی اور عزیز ایران کی زیادہ سے زیادہ خودمختاری کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا تھا، جس کے ساتھ ساتھ وہ وحدتِ کلمہ اور ملی انسجام پر بھی تاکید کرتے تھے۔ انہوں نے اپنی زندگی اسلامی نظام کے قیام اور اس کی مضبوطی و دوام کی کوشش میں گزار دی، اور ساتھ ہی ان کے نزدیک اسلامی جمہوریہ ایران عوام کے بغیر بے معنی تھا۔ اقتدار و صلابت کے ساتھ، وہ سوچ و نگاہ میں ظرافت سے بھی خوب بہرہ ور تھے۔ ملک کی توانائیوں خصوصاً نوجوانوں پر خاص توجہ دیتے تھے۔ علم و ٹیکنالوجی اور اس کے ذریعے ترقی کو اہمیت دیتے تھے۔ شہداء کے معزز خاندان، جانبازوں اور ایثارگران عزیز کے لیے خاص قدر و منزلت کے قائل تھے۔ مختلف شعبوں میں ان کے گرانقدر اور وسیع تجربات تھے، جن میں سے بعض کا پس منظر کئی دہائیوں پر مبنی ہے، اور بہت سی ایسی دوسری خصوصیات تھیں جن کی ایک طویل فہرست ہے۔

ان دنوں بعض نشریاتی اداروں میں بارہا ان کے فن و ہنر، ہنر شناسی اور ہنر پروری پر گفتگو ہوتی ہے۔ یہ عنصر اگرچہ اکیلے ہی کسی شخصیت کے لیے بڑی قدر پیدا کر سکتا ہے اور یقیناً ہمارے عزیز رہبر میں حقیقی معنوں میں اور بلند ترین درجے میں موجود تھا، لیکن ان کی دیگر صفات اور امتیازات کے مقابلے میں بہت چھوٹا لگتا ہے۔ میں ان میں سے متعدد ہنروں کا خود سراغ رکھتا ہوں:
ان کا ایک بڑا ہنر جس پر کم توجہ دی جاتی ہے، وہ عوام کی بڑی بڑی جمعیتوں اور سماجی گروہوں کے افکار، خیالات اور احساسات کی تشکیل کے ذریعے معاشرے کی تربیت و پرورش کا ہنر تھا۔
ان کا دوسرا ہنر، ہدف مند اداروں کی تشکیل تھی، جس کا خاص طور پر اپنی قیادت و رہبری کے ابتدائی سالوں میں مستقبل کے افق کو مدنظر رکھتے ہوئے آغاز کیا۔
ان کا تیسرا ہنر، ملک کے فوجی ڈھانچے کو طاقتور بنانے کا اقدام تھا، جس کے مثبت اثرات سے ایران کی قوم حالیہ جنگ مسلط شده میں آگاہ اور بہرہ مند ہوئی۔ اسی طرح، مختلف شعبوں خصوصاً علمی میدان، اسٹریٹجی اور پالیسی سازی میں تخیلق اور ابتکار کی قدرت، ان کے دیگر ہنروں میں سے تھا، جس کا ایک حصہ نظام کی کلی پالیسیوں میں منعکس ہے۔ نیز لفظوں اور بدیع ترکیبوں کے ذریعے معانی پیدا کرنے کی قدرت، جن میں سے ہر ایک، معانی کا انبار سموئے ہوئے تھا۔ اور ان ہنروں میں سے ایک ہنر جو ان کی بلند روح کے شدائد، آزمائشوں اور مصیبتوں میں گھرے ہونے، اور حق کے راستے پر ان کی بصیرت اور استقامت کے نتیجے میں حاصل ہوا تھا، واقعات کی پیش بینی کا ہنر تھا: المؤمن ینظر بنور اللہ۔ اور مزید ایسے دوسرے ہنر، جن کا احاطہ کرنا اس مختصر موقع میں ممکن نہیں ہے۔
یہ سارے ہنر اور خصوصیات، جن کا سرچشمہ خدائی عنایات اور ہمارے مولا امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) اور ان کے پاکیزہ آبائے طاہرین (صلوات اللہ علیہم اجمعین) کی خاص توجہ کے سوا اور کچھ نہیں تھا۔ اس بات کو کیسے درک کیا جا سکتا ہے کہ یہ عنایات اور توجہات اس بزرگ ہستی کی طرف کس طرح مائل ہوئیں؟ اسے آپ ان کی کلمۂ حق کی بلندی کی راہ میں انتھک اور خالصانہ کوشش و مجاہدت میں تلاش کریں۔ البتہ خاص طور پر، پہلوی خاندان کی خائن حکومت کے خلاف جدوجہد کی سختیوں کے علاوہ، انہوں نے اپنی ذمہ داریوں کو انجام دینے کے راستے میں ایک اور خاص خصوصیت سے بھی بہت زیادہ فائدہ اٹھایا، جس کے بارے میں عام عوام عموماً بے خبر ہیں۔
تقدیر میں یہ لکھا تھا کہ ایک نوجوان سید جو شدت سے علم کا طلب گار اور عمل کا خواہاں تھا، جبکہ اس کے بزرگ والد نابینا ہونے کی نوبت پر تھے، اساتذہ عظام کی خدمت میں برسوں زانوئے ادب تہہ کرنے کے بعد، ترقی یافتہ علمی اور مستقبل ساز تمام ظاہری امکانات کو چھوڑ کر، اللہ کے فضل پر بھروسہ کرتے ہوئے، مکمل طور پر اپنے والد کے سامنے متوجہ ہوگئے۔ پس اللہ کا فضل اس ایثار کے نتیجے میں اس طرح ظاہر ہوا کہ اچانک سید علی خامنہ ای جیسے جوان، جن کی عمر تیس سال سے بھی کم تھی، ایک تابندہ ستارے کی طرح طلوع ہوئے اور جلد ہی انقلاب کے فکری اور مجاہدانہ ارکان میں سے ایک بن گئے، اور اسی دوران علوم میں بھی انہوں نے قابلِ ذکر پیشرفت کی یہاں تک کہ پچاس کی دہائی (خورشیدی) کے سالوں میں، ساواک نے انہیں “خمینیِ صغیر” کہہ کر پکارنا شروع کردیا۔
میں اس نکتے پر زور دینا چاہوں گا کہ اس بزرگ ہستی کا یہ ظاہری و باطنی ترقی کا سفر بعد کے ادوار میں بھی اسی طرح جاری رہا۔ اب جب کہ ہم ان بزرگوں خصوصاً ایسی شخصیت کے طرزِ عمل سے سبق حاصل کرنے کے مقام پر ہیں، تو ہمارے لیے یہ بہت مناسب ہے کہ ایک دوسرے کے لیے خالصانہ خیرخواہی اور ہمدردی و مواسات کی خصوصیت کو اپنے اندر پیدا کریں۔ چونکہ یہ خصوصیت اور اسکے ساتھ وسیع الٰہی رحمت پر نگاہ، ایسے شخص کے درمیان جو حق کے پرچم تلے کھڑا ہے اور ان لوگوں کے درمیان جو باطل کے پرچم کے گرد چکر لگا رہے ہیں، ایک اہم فرق پیدا کر دیتی ہے۔ یقیناً اس قسم کے طرزِ عمل کا اپنانا، دشمن پر غلبے اور علمی و تکنیکی ترقیوں تک آسمانوں کے دروازے کھولنے اور انواع و اقسام کی الٰہی و غیبی امدادوں کے نزول کا سبب بنے گا۔

ان دنوں بارہا سنا جاتا ہے کہ عزیز عوام کے مختلف گروہ، حق کے ساتھ اور حسرت کے ساتھ، اس یگانۂ روزگار کو یاد کر رہے ہیں، اور آہستہ آہستہ ان کی والا شخصیت کے تابناک گوہر کے مزید پہلو ظاہر ہو رہے ہیں۔ اسی طرح ان جناب کے بعض خاص اعمال کی پیروی کرنے کا رواج بھی آہستہ آہستہ عام ہو رہا ہے۔ مثلاً ہمارے عزیز عوام نے ان جناب کی شہادت کے دوران بند مٹھی سے سبق سیکھا، اور اب یہ بند مٹھی بعض لوگوں کے لیے عقیدے کی ایک قسم کی مشترکہ علامت بن گئی ہے۔ اس طرح ایک بار پھر یہ ثابت ہو جاتا ہے کہ شہید کا اثر ایک زندہ فرد سے زیادہ ہوتا ہے، اور توحید، حق طلبی اور ظلم و تباهی کے خلاف مبارزے کی طرف اس کی بلند آواز، اس کی زندگی کے دورانیے سے کہیں زیادہ پرطنین اور اس کا پیغام کہیں زیادہ نافذ ہوتا ہے، اور اسی طرح اس عظیم الشان شہید کی قلبی آرزو جو اس قوم اور دیگر مسلمان قوموں کی خوش بختی تھی، پہلے سے زیادہ حقیقت کے قریب پہنچ گئی ہے۔

تیسری مسلط شدہ جنگ میں ایرانی مقتدر قوم کی فتح
ہم وطن بھائیوں اور بہنو! آج اور تیسرے مقدس دفاع کے حماسہ کے اس مقام تک، ہم جرأت سے کہہ سکتے ہیں کہ اے قهرمان قومِ ایران! تم اس میدان کے یقینی فاتح رہے ہو۔
آج اسلامی جمہوریہ ایران کا ایک عظیم طاقت کے طور پر طلوع ہونا اور استکبار کا زوال کی ڈھلان پر گر جانا، سب کی نظروں کے سامنے آشکار ہو چکا ہے۔ یہ بے شک ایک الٰہی نعمت ہے جو ہمارے شہید رہبر کے خون، دیگر گلگون کفن شہداء، مظلوم ہم وطنوں، اور میناب کے “شجرہ طیبہ” اسکول کی بکھری کلیوں کی برکت، اور عوام کی بارگاہِ ربوبی میں گریہ و زاری اور توسل کے بعد، اور ان کے میدانوں، محلوں اور مساجد میں مجاہدانہ موجودگی کی وجہ سے، اور سپاہ، ارتش، فراجا، گمنام سپاہیوں اور سرحدوں کے محافظوں کے بے دریغ، بے منت اور خالصانہ جانثاری کی بدولت، ایرانی قوم کو عطا ہوئی ہے۔ یہ نعمت بھی ہر دوسری نعمت کی طرح قابلِ شکر ہے تاکہ اسے بقا اور دوام حاصل ہو، “لئن شکرتم لازیدنکم”۔ اس نعمت کا عملی شکر، ایک مضبوط ایران کے حصول کے لیے مسلسل جدوجہد کرنا ہے۔
میدان میں عوام کے مسلسل حضور کی اہمیت
شہید رہبر کے نعرے اور اسٹریٹجک ہدف تک پہنچنے کے لیے موجودہ مرحلے میں جو چیز ضروری معلوم ہوتی ہے، وہ ہمارے عزیز عوام کا اسی طرح میدان میں مسلسل حضور ہے جیسے انہوں نے پچھلے چالیس روز گزارے ہیں۔ یہ حضور اس منزلت کا ایک اہم رکن ہے جس پر اب یہ طاقتور ایران قائم ہے۔
لہٰذا دشمن کے ساتھ مذاکرات کے اعلان کے ساتھ یہ خیال نہیں کرنا چاہیے کہ سڑکوں پر موجودگی ضروری نہیں ہے۔ بلکہ اگر بالفرض ضرورتاً فوجی محاذ پر خاموشی کا دور آ بھی پہنچے، تو عوام کی ذمہ داری جن کے لیے میدانوں، محلوں اور مساجد میں موجودگی ممکن ہے، پہلے سے کہیں زیادہ بڑھ جاتی ہے۔ یقیناً میدانوں میں آپ کی صدائیں، مذاکرات کے نتائج پر مؤثر ثابت ہوں گی۔ بالکل اسی طرح حیرت انگیز اور کروڑوں کی تعداد میں بڑھتی ہوئی “جان فدا برائے ایران” مہم، بھی اس میدان میں اثر انداز ہونے والے عناصر میں سے ایک ہے۔ اللہ تبارک و تعالیٰ کے اذن سے، یہ کردار ادا کرنے اور اس کے تسلسل کے نتیجے میں، وہ منظرنامہ جو ایران کی قوم کے سامنے ہے، ان کے لیے ایک شاندار، درخشاں، اور عزت و سربلندی سے بھرپور ظہور مستقبل کی نوید سنا رہا ہے۔ ہمارے شہید رہبر جب رہبری کے منصب پر فائز ہوئے، اس وقت اسلامی جمہوری نظام ایک ایسے پودے کی مانند تھا جس پر اسلام اور ایران کے دشمنوں نے متعدد زخم لگائے ہوئے تھے، اور یقیناً اس نے ان تمام زخموں کو بخوبی تحمل کیا تھا۔ لیکن جب وہ تقریباً 73 سال کی عمر میں امت کی قیادت کے منصب سے جدا ہوئے، تو انہوں نے اپنے پیچھے ایک “شجرہ طیبہ” چھوڑا جس کی جڑیں مضبوط تھیں اور جس کی شاخوں اور پتوں نے خطے اور دنیا کے اہم حصوں پر سایہ کر دیا تھا۔ “ایران بہت زیادہ مظبوط” تک پہنچنے کا نقطۂ نظر معاشرے کے مختلف طبقات کے درمیان وحدت کے راستے سے ہو کر گزرتا ہے، جس پر وہ بارہا تاکید کرتے تھے۔ اس وحدت کا ایک قابلِ توجہ حصہ ان چالیس دنوں میں وجود میں آیا۔ لوگوں کے دل ایک دوسرے کے قریب ہو گئے، مختلف مکاتبِ فکر کے درمیان جو برف تھی وہ پگھلنے لگی، سب وطن کے پرچم تلے جمع ہو گئے، اور روز بروز اس اجتماع کی تعداد اور کیفیت میں اضافہ ہو رہا ہے۔ بہت سے افراد جو ابھی تک اس قسم کی موجودگی میں شریک نہیں ہوئے، وہ قلبی طور پر میدانوں میں موجود اجتماعات کے ساتھ ہم آہنگ ہیں۔

ان دنوں بہت سے لوگ ایک تہذیبی نگاہ کا تجربہ مستقبل کے افق پر نظر جمائے کر رہے ہیں، اور اپنے لیے کوئی وہم نہیں بلکہ حال اور مستقبل کی حقیقتوں پر مبنی تصویر تخلیق کر رہے ہیں۔ یہ وہ خصوصیت ہے جو کچھ عرصہ پہلے تک بہت کم لوگوں میں دیکھی جاتی تھی جن میں شہید رہبر سرفہرست تھے۔ اسی طرح ہر ناظر اس قوم کی تیز رفتار اور معجزانہ ترقی کو سمجھ رہا ہے، اور بے وجہ نہیں کہ ان دنوں اس دور کے نامور حکیم اور عالیقدر فقیہ جب آپ سے اس شان کے بارے میں بات کرتے ہیں تو بارہا ضبط کا بندھن ٹوٹنے کی وجہ سے، ان کی گفتگو میں رکاوٹ پیدا ہورہی ہے۔
جنوبی ہمسایوں، نقصانات کے ہرجانے اور شہداء کے خون بہا کے بارے میں نکات
اسی موقع پر میں ایران کے جنوبی ہمسایوں سے کہنا چاہتا ہوں کہ آپ ایک معجزہ دیکھ رہے ہیں۔ لہٰذا صحیح سے دیکھیں، صحیح سمجھنے کی کوشش کریں، اور درست جگہ کھڑے ہوں، اور شیطانوں کے جھوٹے وعدوں پر بے اعتمادی ظاہر کریں۔ ہم ابھی بھی آپ کی جانب سے مناسب ردِعمل کے منتظر ہیں تاکہ آپ کو اپنی برادری اور خیرخواہی دکھا سکیں۔ لیکن یہ اُس وقت تک ممکن نہیں جب تک آپ مستکبروں سے اپنے آپ کو جدا نہ کرلیں، جو آپ کو ذلیل کرنے اور آپ کا استحصال کرنے کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتے۔ یہ (مستکبر) لوگ یہ بھی جان لیں کہ اللہ تعالیٰ کے اذن سے ہم ان بدمعاش حملہ آوروں کو ہرگز نہیں چھوڑیں گے جنہوں نے ہمارے ملک پر حملہ کیا۔ ہم یقیناً اس جنگ میں ہونے والے ایک ایک نقصان کا ہرجانہ، شہداء کا خون بہا اور جانبازوں کی دیت طلب کریں گے، اور ہم یقیناً آبنائے ہرمز کے انتظام کو ایک نئے مرحلے میں داخل کریں گے۔ ہم جنگ کے خواہاں نہ تھے اور نہ ہیں، لیکن اپنے حق بجانب حقوق سے ہرگز دستبردار نہیں ہوں گے، اور اس سلسلے میں ہماری نگاہیں پوری محاذِ مقاومت پر یکساں ہے۔
عوام کے لیے نصحیتیں
اس مرحلے میں جب تک ہم ہر اس چیز تک نہیں پہنچ جاتے جو ہمارا حق ہے، اولاً تمام عوام ایک دوسرے کا خیال رکھنے کی کوشش کریں تاکہ ان کمیوں کی وجہ سے جو ہر جنگ کا قدرتی نتیجہ ہوتی ہیں، مختلف طبقات پر کم دباؤ پڑے۔ البتہ یہ کمی بیشیاں، جو آپ کے مد مقابل دشمن کے ہاں کہیں زیادہ موجود ہیں، حکومت اور دیگر اداروں میں موجود آپکے بھائیوں اور بہنوں کی کوششوں کی بدولت، قابلِ لحاظ حد تک منظم کر دی گئی ہیں۔
ثانیاً، دشمن کے زیرِ حمایت یا اس کے ہم آہنگ میڈیا کے مقابلے میں اپنے کانوں کی حفاظت کرنا ضروری ہے، کیونکہ کان، دماغ اور دل کی کھڑکی ہیں۔ یقیناً وہ میڈیا مملکت اور قوم کے خیرخواہ نہیں ہیں، اور یہ بات بارہا ثابت ہو چکی ہے۔ لہٰذا ہمیں چاہئیے کہ ہم ان کے استعمال کو کم کر دیں یا کم از کم وہ جو کچھ پیش کرتے ہیں، ان کے سلسلے میں شدید بدگمانی کا اظہار کریں۔
ثالثاً، عزیز قوم اگرچہ اپنے رہبر عظیم الشان کی شہادت کی رسمی مدتِ عزاء ختم ہونے پر سوگ کے کپڑے اتار دے گی، لیکن ان کے پاک خون اور دوسری اور تیسری مسلط شدہ جنگ کے تمام شہداء کا بدلہ لینے کا پختہ عزم اپنی روح و دل میں زندہ رکھے گی، اور مسلسل اس کے تحقق کا انتظار کرے گی۔
آخر میں اپنے مولا امام زمانہ (عجل اللہ تعالیٰ فرجہ الشریف) کی خدمت میں عرض ہے کہ ہم خدائے متعال پر ایمان، ائمہ معصومین (صلوات اللہ و سلامہ علیہم) سے توسل، اور اپنے شہید رہبر سے تأسی لے کر، آپ کی جناب کے پَرچم تلے، کفر و استکباری محاذ کے مقابلے میں ڈٹ کر کھڑے ہیں، اور اس راستے میں ملک کی عزت و آزادی اور اسلام و انقلاب اسلامی کی سربلندی کی راہ میں ہم مختلف طبقات سے تعلق رکھنے والے گرانقدر شہداء دے چکے ہیں، اور دیگر نقصانات بھی اٹھا چکے ہیں۔ اب ہم پوری طرح آپ کی خاص دعا سے دشمن پر قاطع غلبے کے لیے خواہ وہ مذاکرات کے میدان میں ہو یا میدانِ جنگ میں امید باندھے منتظر ہیں، اور ہمیں امید ہے کہ جلد ہی ہم اور ہمارے دشمن دونوں اس کا معجزاتی اثر دیکھیں گے، ان شاء اللہ۔
والسلام علیکم ورحمت اللہ و برکاتہ
سید مجتبی حسینی خامنه‌ای
9 اپریل 2026

Scroll to Top