اسلام247 : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اعلان کیا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں کامیابی کا سنہری موقع موجود ہے اور “پہلی بار سب لوگ کسی خاص معاہدے پر متفق” دکھائی دے رہے ہیں — ایسے وقت میں اُن کا تازہ پیش کردہ غزہ امن منصوبہ جنگ بندی اور قیدیوں کی رہائی سمیت متعدد شقوں پر مبنی ہے۔
امریکی ذرائع اور جریدے کی رپورٹس کے مطابق، ٹرمپ کے منصوبے کے کلیدی نکات یہ ہیں: فوراً جنگ بندی، 48 گھنٹوں کے اندر یرغمالیوں کی رہائی، حماس کی غیر مسلحی اور تشدد ترک کرنے والوں کے لیے عام معافی کی پیشکش۔ منصوبے کے تحت امریکا کی قیادت میں غزہ کی تعمیرِ نو ہوگی — ہسپتال اور رہائشی عمارتیں دوبارہ تعمیر کی جائیں گی — اور امداد کی تقسیم اقوامِ متحدہ اور غیر جانبدار اداروں کے ذریعے کی جائے گی۔
رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ غزہ میں اسرائیلی انخلا کے دوران علاقے کی سیکیورٹی عالمی اور عرب کثیرالملکی فوج سنبھالے گی، جبکہ غزہ کی عارضی انتظامی باڈی عالمی نگرانی میں اہل فلسطینی نمائندوں کے ذریعے چلائی جائے گی۔ منصوبے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ اسرائیل میں قید فلسطینی قیدیوں کی رہائی اور یرغمالیوں کی بازیابی کے بعد ممکنہ قیدیوں کے تبادلے پر عمل ہونے کی توقع ہے۔
ٹرمپ نے اپنے سوشل میڈیا بیان میں لکھا: “ہمارے پاس مشرقِ وسطیٰ میں کامیابی حاصل کرنے کا سنہری موقع ہے — ہم یہ کام ضرور مکمل کریں گے۔” اہلِ پیشہ و ماہرین کا کہنا ہے کہ اگرچہ ظاہری طور پر بہت سی حکومتیں اور فریق اس پیشکش پر متفق دکھائی دے رہے ہیں، مگر اس کی عملی نوعیت، تفصیلات اور قبولیت کا دارومدار فریقین کی باہمی رضامندی، علاقائی شرائط اور اقوامِ عالم کی شراکت پر ہوگا۔
ماہرین نے نشاندہی کی ہے کہ حماس کی غیر مسلحی، عارضی انتظام اور بین الاقوامی فورس کی تعیناتی جیسے نکتے عملی و سیاسی پیچیدگیوں سے بھرے ہیں اور ان پر تفصیلی مذاکرات، گارنٹیز اور نگرانی ضروری ہوگی۔ اسی طرح، قیدیوں کی رہائی اور عام معافی کی شقیں بھی حساسیت کی حامل ہیں اور ان پر دونوں اطراف کے اندرونی سیاسی ردِعمل اثر انداز ہوگا۔
واضح رہے کہ اس تجویز کا پس منظر غزہ میں جاری حالتِ جنگ، عالمی سطح پر اسرائیل کے خلاف بڑھتی ہوئی تنقید اور متعلقہ فریقین کے درمیان جاری سفارتی کوششیں ہیں — جن میں اقوامِ متحدہ، عرب ریاستیں اور دیگر بین الاقوامی کھلاڑی ملوث ہیں۔