ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ

اسلام247 : ایران کے خلاف اقوامِ متحدہ کی پرانی پابندیاں باضابطہ طور پر دوبارہ نافذ کر دی گئی ہیں، اور امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو نے اس موقع پر دعویٰ کیا ہے کہ واشنگٹن اب بھی ایران کے ساتھ جوہری پروگرام پر کسی معاہدے کے لیے سفارتکاری کے دروازے کھلے رکھنے پر زور دے رہا ہے۔

روبیو نے کہا کہ سلامتی کونسل کے ذریعہ پابندیوں کا دوبارہ نفاذ اس بات کی علامت ہے کہ عالمی برادری تہران کے ممکنہ خطرات کے سامنے نہیں جھکے گی اور ایران کو جوابدہ ٹھہرانا ہوگا۔ انہوں نے اس موقع پر صدر کے بیانات کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سفارتکاری ابھی بھی ایک قابل عمل راستہ ہے اور ایک معاہدہ ایرانی عوام اور عالمی برادری کے لیے بہتر نتیجہ ثابت ہو سکتا ہے۔

یہ بھی پڑھیں : امریکی وزیرِ خارجہ مارکو روبیو: ایران کے ساتھ معاہدے کا امکان اب بھی باقی ہے

رائٹرز کے مطابق یورپی تروییکا (فرانس، جرمنی اور برطانیہ) نے بھی اعلان کیا کہ ایران پر اقوامِ متحدہ کی پابندیاں دوبارہ نافذ کر دی گئی ہیں اور اس کے بعد تہران سے توقع کی گئی ہے کہ وہ کسی بھی کشیدگی بڑھانے والے اقدام سے گریز کرے گا۔

امریکی خبر رساں ادارے ایسوسی ایٹڈ پریس نے رپورٹ کیا کہ ان پابندیوں کے نفاذ کے ساتھ ایران کے بیرونی اثاثے دوبارہ منجمد کیے جائیں گے، ایران کے ساتھ اسلحے کی تجارت پر پابندی لاگو ہو گی اور بیلسٹک میزائل پروگرام کی ترقی کو بھی روکنے کی کوششیں شامل ہوں گی۔

روبیو نے ایکس (سابقہ ٹویٹر) پر یورپی تروییکا کا شکریہ ادا کیا اور دعویٰ کیا کہ یہ پابندیاں ایران کی یورینیم افزودگی کو محدود کریں گی اور ایران کے جوہری اور میزائل پروگراموں پر مزید قدغن عائد کریں گی۔

تاہم ناقدین نے اس اقدام کی قانونی حیثیت اور اس کے سیاسی تناظر پر سوالات اٹھائے ہیں، خاص طور پر اس پس منظر میں کہ امریکہ نے 2018 میں یکطرفہ طور پر برجام سے علیحدگی اختیار کی تھی اور یورپی فریقین نے بھی بعض وعدوں پر پوری طرح عمل درآمد نہ کیا تھا۔ بعض بین الاقوامی مبصرین نے کہا ہے کہ پابندیوں کا یہ دوبارہ نفاذ کشیدگی کو بڑھا سکتا ہے اور سفارتی حل تلاش کرنے کے عمل کو نقصان پہنچا سکتا ہے۔

Scroll to Top