اسلام247 : روسی وزارتِ خارجہ کی ترجمان ماریا زاخارووا نے یورپی تروییکا (جرمنی، برطانیہ اور فرانس) کی جانب سے ایران پر اقوام متحدہ کی پرانی پابندیاں دوبارہ نافذ کرنے کی کوشش کو “فریب کاری” سے تعبیر کیا اور کہا کہ ان پابندیوں کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہے۔
اپنے ٹیلیگرام پیغام میں انہوں نے واضح کیا کہ یہ معاملہ اسنیپ بیک میکانزم سے متعلق ہے، جس کے تحت سلامتی کونسل کی پرانی پابندیوں کی فوری بحالی کی جاتی ہے، تاہم یورپی ممالک نے قرارداد 2231 میں طے شدہ اختلافی امور کے حل کے طریقۂ کار کو یکسر نظرانداز کر دیا۔
ماریا زاخارووا کے مطابق، فریقین کو سب سے پہلے تنازعہ حل کرنے کے طریقۂ کار کے تحت دعووں کا جائزہ لینا چاہیے تھا، اور اگر تمام راستے ناکام ہو جاتے تو پھر معاملہ سلامتی کونسل کو بھیجا جا سکتا تھا، لیکن لندن، پیرس اور برلن نے یہ مراحل چھوڑ کر براہِ راست ایک خط سلامتی کونسل میں جمع کرا دیا، جو کہ بین الاقوامی قانون کے لحاظ سے فریب کاری کے مترادف ہے۔
انہوں نے کہا: “اگر آپ خود قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہیں تو پھر آپ ان میں درج میکانزم استعمال کرنے کا حق کھو دیتے ہیں۔”
یہ بھی پڑھیں : ایرانی وزیر خارجہ عراقچی نے یورپی ٹرائیکا کے اسنیپ بیک میکانزم کی کوشش کو بین الاقوامی ساکھ کے لیے خطرہ قرار دیا
زاخارووا نے مزید بتایا کہ یورپی ممالک نے 28 اگست کو سلامتی کونسل کو خط بھیجا تھا، جبکہ 27 ستمبر کو 30 روزہ مدت مکمل ہو گئی۔ سلامتی کونسل نے ایران پر پابندیوں میں نرمی برقرار رکھنے کی قرارداد منظور نہیں کی، جسے یورپی ممالک نے اپنی منشا کے مطابق “نرمی کے خاتمے” کے طور پر پیش کر دیا۔
ان کا کہنا تھا کہ 18 اکتوبر کو جوہری معاہدہ ختم ہونے جا رہا ہے، اسی لیے یورپی ممالک نے جلد بازی میں یہ قدم اٹھایا تاکہ روس کی صدارت شروع ہونے سے پہلے اپنی پوزیشن مضبوط کر سکیں۔
زاخارووا نے بتایا کہ روس اور چین اس اقدام کے سخت مخالف تھے کیونکہ یہ معاملہ سیاسی کے ساتھ ساتھ قانونی سالمیت کے تحفظ سے بھی متعلق ہے۔ انہوں نے کہا کہ ماسکو اور بیجنگ نے 26 ستمبر کو آخری کوشش کی تاکہ قرارداد 2231 کی مدت میں توسیع ہو اور سفارتی راستہ نکالا جا سکے، مگر مغربی ممالک نے جلد بازی کی۔
آخر میں روسی ترجمان نے کہا کہ مغرب نے بین الاقوامی قانون کے دو بنیادی اصولوں — وفایہ بہ عہد اور پاک ہاتھوں کا اصول — دونوں کی خلاف ورزی کی ہے اور توازن و نگرانی کے نظام کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔