اسلام247 : قم المقدسہ میں سید مقاومت کی پہلی برسی کے موقع پر بقیۃ اللہ انسٹیٹیوٹ کی جانب سے مشاعرے کا انعقاد کیا گیا، جس میں برصغیر پاک و ہند کے نامور شعراء اور علمائے کرام نے حزب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شہید سید حسن نصر اللہ اور دیگر شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا۔
محفل کی نظامت حجت الاسلام و المسلمین سید کمیل شیرازی نے اپنے مخصوص انداز میں کی اور مختلف شعرائے کرام من جملہ مولانا سید صائب جعفری، مولانا یوشع ظفر حیاتی، مولانا زین عباس، مولانا زین العابدین خوئی، مولانا یوسف دانش، مولانا محسن آھیر، مولانا صادق ناصری، مولانا عنایت شریفی، مولانا ذیشان جوادی، مولانا ولایت حسین ولایتی، اور جناب علی رضا تقوی نے دیے گئے مصرع کے تحت خوبصورت اشعار پیش کیے۔

شعرائے کرام نے سید مقاومت شہید سید حسن نصر اللہ کی سجاعت، صراحت، اخلاق، دینداری اور بہادری کی توصیف کرتے ہوئے عالم اسلام کے دیگر شہداء کو بھی یاد کیا اور رہبر معظم انقلاب اسلامی اور مقاومت سے تجدید عہد کیا۔

محفل مسالمہ سے خطاب کرتے ہوئے مجلس وحدت مسلمین پاکستان کے بین الاقوامی امور کے سربراہ حجت الاسلام و المسلمین علامہ ڈاکٹر شفقت حسین شیرازی نے سیر حاصل گفتگو کی۔ انہوں نے سید مقاومت کی شہادت کو ایک ناقابل تلافی نقصان قرار دیا اور کہا کہ ہم یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ ایک دن قم المقدسہ کی سرزمین پر سید مقاومت سید حسن نصر اللہ کی شہادت پر محفل مسالمہ منعقد کریں گے، یہ ایک ایسی بات ہے جس پر آج تک یقین حاصل نہیں ہو پایا ہے۔

ڈاکٹر شفقت شیرازی نے سید مقاومت سے اپنی کچھ سال پہلے ہونے والی ملاقات میں سید شہید کی جانب سے پاکستان کے علماء کو کی جانے والی نصیحتوں کو شرکاء کے سامنے بیان کیا۔ ان کے مطابق سید مقاومت کی تاکید تھی کہ پاکستان کے شیعہ افراد وہاں کے معتدل اہل سنت افراد سے اپنے رابطے مستحکم کریں تاکہ وحدت اور اسلامی حمیت کو فروغ حاصل ہو سکے۔