اسلام247 : برطانوی عدالت نے لبنان کی تنظیم حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کے الزام میں دہشت گردی کے مقدمے کا سامنا کرنے والے آئرلینڈ کے میوزیکل بینڈ ’نیکیپ‘ کے گلوکار 27 سالہ لیام اوہانا کے خلاف دہشت گردی کا الزام خارج کردیا۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق لندن کی عدالت نے آئرش ریپ گروپ ’نیکیپ‘ کے گلوکار کے خلاف دہشت گردی کے الزام کو مسترد کیا۔
ویسٹ منسٹر مجسٹریٹس کورٹ میں سماعت کے بعد جج پال گولڈ اسپرنگ نے فیصلہ دیا کہ گلوکار پر دہشت گردی کا الزام 6 ماہ کی قانونی مدت کے بعد لگایا گیا، اس لیے یہ غیر قانونی ہے اور عدالت اس کی سماعت نہیں کر سکتی۔
فیصلے پر گلوکار، ان کے حامیوں اور بینڈ کے دیگر ارکان نے خوشی کا اظہار کیا۔
شمالی آئرلینڈ کی فرسٹ منسٹر مشیل اونیل نے بھی فیصلے کی حمایت کی اور کہا کہ یہ الزام غزہ میں اسرائیلی اقدامات کے خلاف آواز اٹھانے والوں کو خاموش کرنے کی کوشش تھی۔
لیام اوہانا نے فیصلے کے بعد کہا کہ مذکورہ مقدمہ کبھی ان کے یا عوامی خطرے کے بارے میں نہیں تھا بلکہ غزہ کے لیے آواز اٹھانے کی سزا تھی۔
ان پر نومبر 2024 میں لندن کے ایک کنسرٹ میں حزب اللہ کا جھنڈا لہرانے کا الزام تھا، حزب اللہ برطانیہ میں کالعدم تنظیم ہے۔
گلوکار پر مئی 2025 میں دہشت گردی ایکٹ کے تحت مقدمہ دائر کیا گیا تھا، جون 2025 میں عدالت نے ان پر دہشت گردی کی فرد جرم عائد کی تھی اور گلوکار نے خود پر لگے الزامات کو تسلیم کرنے سے انکار کرتے ہوئے اپیل کرنے کا اعلان کیا تھا۔
’نیکیپ‘ میوزیکل بینڈ کے ارکان آئرش اور انگریزی زبان میں گلوکاری کرتے ہیں اور فلسطین کی حمایت کرتے رہے ہیں۔
ماضی میں عدالتی سماعتوں کے دوران لیام اوہانا نے عدالت کو بتایا تھا کہ کنسرٹ کے دوران حزب اللہ کا جھنڈا ایک تماشائی نے اسٹیج پر پھینکا تھا، انہوں نے جھنڈا نہیں لہرایا تھا۔