اسلام247 : نیویارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 80 ویں اجلاس کے موقع پر ایران، چین، روس اور پاکستان کے وزرائے خارجہ کے چار فریقی اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے ایرانی وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے کہا ہے کہ اسلامی جمہوریہ ایران افغان عوام کے حقِ خود ارادیت اور ملک کے داخلی معاملات میں عدم مداخلت کے اصول پر قائم ہے۔
عراقچی نے کہا کہ “افغان عوام کو اپنی سیاسی، معاشی اور سماجی تقدیر کا فیصلہ خود کرنے کا پورا حق ہے”۔ انہوں نے تسلیم کیا کہ عبوری حکومت کی کوششوں کے باوجود افغانستان کو اب بھی سکیورٹی، انسانی بحران اور معاشی عدم استحکام جیسے سنگین مسائل کا سامنا ہے، جو نہ صرف داخلی بلکہ پورے خطے کے لیے خطرہ ہیں۔
خطے کی ذمہ داری
ایرانی وزیر خارجہ نے زور دیا کہ خطے کے ممالک پر مشترکہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ تعمیری انداز میں افغانستان کے مسائل کے حل کے لیے تعاون کریں۔ انہوں نے کہا کہ دہشت گرد اور شدت پسند گروہ اب بھی افغانستان میں سرگرم ہیں جو پڑوسی ممالک کے لیے سنگین خطرہ ہیں۔
عراقچی نے مطالبہ کیا کہ عبوری حکومت شفاف، قابلِ تصدیق اور مؤثر اقدامات کرے اور دہشت گردی کے خلاف جامع اور غیر امتیازی جدوجہد کو یقینی بنائے۔
پابندیوں اور اثاثوں پر موقف
سید عباس عراقچی نے اقتصادی پابندیوں کو ہدفِ تنقید بناتے ہوئے کہا کہ “پابندیاں ہتھیار کے طور پر استعمال نہیں کی جانی چاہئیں تاکہ افغانستان کی معاشی بحالی یا عبوری حکومت کے ساتھ جائز روابط میں رکاوٹ نہ ہو”۔
انہوں نے زور دیا کہ افغانستان کے بیرونِ ملک منجمد اثاثے فوری اور بلاشرط بحال کیے جائیں تاکہ افغان عوام کو ریلیف مل سکے۔
ایران پر بوجھ
ایران کے وزیر خارجہ نے کہا کہ ایران لاکھوں افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کر رہا ہے جس سے اس کی معیشت اور سکیورٹی پر اربوں ڈالر کا بوجھ پڑ رہا ہے، جبکہ ایران خود بھی سخت ترین یکطرفہ پابندیوں کا شکار ہے۔
امریکا پر تنقید
عراقچی نے افغانستان میں امریکا کی طویل موجودگی کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ امریکی مداخلت اور دو دہائیوں پر محیط فوجی موجودگی کے نتیجے میں صرف تباہی اور عدم استحکام پیدا ہوا۔
“اس موجودگی نے ہزاروں افغانوں کی جان لی، دہشت گردی، منشیات، کرپشن، غربت اور ہجرت کو ہوا دی”، عراقچی نے کہا۔