پاکستانی وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل عاصم منیر کی وائٹ ہاؤس میں ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات

اسلام247 : وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے پہلی باضابطہ دو طرفہ ملاقات کی۔ یہ ملاقات تقریباً ایک گھنٹہ اور 20 منٹ جاری رہی، جس میں نائب صدر جے ڈی وینس اور وزیر خارجہ مارکو روبیو بھی شریک تھے۔

وائٹ ہاؤس میں جاری تصاویر میں وزیراعظم شہباز شریف اور آرمی چیف کو امریکی صدر کے ساتھ تبادلہ خیال کرتے دیکھا گیا۔ ایک گروپ فوٹو کے دوران ٹرمپ نے اپنے مخصوص انداز میں انگوٹھا بلند کرنے کا اشارہ بھی کیا۔

یہ ملاقات واشنگٹن کے وقت کے مطابق شام 4:30 بجے شروع ہونا تھی لیکن صدر ٹرمپ کی مصروفیات کے باعث تقریباً 30 منٹ تاخیر سے آغاز ہوا۔ اس موقع پر صدر ٹرمپ نے پاکستانی قیادت کو “عظیم رہنما” قرار دیا اور کہا کہ “وزیراعظم اور فیلڈ مارشل دونوں بہترین شخصیت کے مالک ہیں۔”

پاک۔امریکا تعلقات میں گرمجوشی

امریکی محکمہ خارجہ کے ایک سینئر عہدیدار نے نیویارک میں میڈیا بریفنگ میں بتایا کہ صدر ٹرمپ کے دوسرے دور میں اسلام آباد اور واشنگٹن کے تعلقات میں نمایاں گرمجوشی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ امریکا نے پاکستان کے معدنیات کے شعبے میں سیکڑوں ملین ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے اور پٹرولیم کی تلاش میں بھی دلچسپی ظاہر کی ہے۔ عہدیدار نے مزید کہا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات بھارت کے ساتھ امریکا کی شراکت داری سے منسلک نہیں ہیں۔

عہدیدار نے یہ بھی واضح کیا کہ واشنگٹن پاکستان اور سعودی عرب کے درمیان حالیہ دفاعی معاہدے کا بغور جائزہ لے رہا ہے۔

امریکا۔بھارت تعلقات میں تناؤ

جنوری 2025 میں ٹرمپ کے دوبارہ عہدہ سنبھالنے کے بعد سے بھارت کے ساتھ امریکی تعلقات کشیدگی کا شکار ہیں۔ اس کی وجوہات میں بھارتی مصنوعات پر بھاری ٹیرف، ویزا پابندیاں اور مئی میں سرحد پار جھڑپوں کے بعد ٹرمپ کے ذاتی طور پر جنگ بندی کرانے کے دعوے شامل ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، امریکا کے ساتھ کشیدگی کے جواب میں نئی دہلی نے اپنے تعلقات کو بیجنگ کے ساتھ متوازن کرنے کی حکمت عملی اختیار کی ہے۔

تاریخی تناظر

یہ ملاقات 2019 کے بعد کسی پاکستانی وزیراعظم اور ٹرمپ کے درمیان پہلا باضابطہ رابطہ ہے۔ اس سے قبل جون 2025 میں فیلڈ مارشل عاصم منیر نے وائٹ ہاؤس میں صدر ٹرمپ سے الگ ملاقات کی تھی، جس میں ایران۔اسرائیل تنازع پر بات ہوئی تھی۔

وزیراعظم شہباز شریف کا یہ دورہ امریکا میں سفارت کاری سے بھرپور سرگرمیوں کے بعد اپنے عروج پر پہنچا ہے، جس میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی، مسلم بلاک کے کثیرالجہتی اجلاس اور عالمی مالیاتی اداروں کے سربراہان سے ملاقاتیں شامل تھیں۔

Scroll to Top