سلووینیا نے اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو کے داخلے پر پابندی لگا دی

اسلام247 : یورپی یونین کے اہم ترین ملک سلووینیا نے عالمی قوانین کی خلاف ورزی اور فلسطین میں جنگی جرائم کے الزامات پر اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو کی اپنے ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر دی۔

خبر رساں ادارے ’ایسوسی ایٹڈ پریس‘ کے مطابق سلووینیا کی جانب سے یہ فیصلہ انٹرنیشنل کریمنل کورٹ (آئی سی سی) کی جانب سے نیتن یاہو کے گرفتاری وارنٹ جاری ہونے کے بعد کیا گیا۔

سلووینیا کی وزارت خارجہ کی عہدیدار نیوا گراسک نے سرکاری خبر رساں ایجنسی سے گفتگو میں پابندی کی تصدیق کرتے ہوئے کہا کہ نیتن یاہو پر جنگی جرائم کے الزامات ہیں اور عالمی قوانین کے تحفظ کے لیے ان پر یہ پابندی عائد کی گئی ہے۔

سلووینیا تقریباً 20 لاکھ آبادی والا یورپی یونین کا رکن ملک ہے، جو گزشتہ سال فلسطینی ریاست کو تسلیم کر چکا ہے اور غزہ میں اسرائیلی کارروائیوں کا سخت ناقد رہا ہے۔

نیتن یاہو کے خلاف یہ اقدام سلووینیا کی پالیسیوں کو مزید واضح کرنے کے لیے کیا گیا ہے۔ ماضی میں بھی سلووینیا کی حکومت دو اسرائیلی وزیروں پر ملک میں داخلے پر پابندی عائد کر چکی ہے۔ گزشتہ برس اسرائیلی قومی سلامتی کے وزیر اور وزیر خزانہ پر داخلے کی پابندی لگائی گئی تھی، جبکہ اسرائیل کو اسلحہ فروخت کرنے پر بھی پابندی عائد کی گئی تھی۔

سلووینیا کی حکومت نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنے پیغام میں کہا کہ یہ فیصلہ اسرائیل کو واضح پیغام دیتا ہے کہ سلووینیا بین الاقوامی عدالتوں کے فیصلوں اور انسانی حقوق کے قانون کی پاسداری جاری رکھے گا۔

Scroll to Top