اسلام247 اپڈیٹ : اسلامی نظریاتی کونسل نے معروف مذہبی اسکالر انجینئر محمد علی مرزا کو گستاخی کا ملزم قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ ان کے بعض بیانات کسی شرعی مقصد کے بغیر نقلِ کفر پر مبنی ہیں اور یہ طرزِ عمل انہیں سخت تعزیری سزا کا مستحق بناتا ہے۔
ڈان نیوز کے مطابق، کونسل کا اجلاس چیئرمین علامہ ڈاکٹر راغب حسین نعیمی کی زیر صدارت ہوا، جس میں متعدد جید علما، وکلا اور مذہبی اسکالرز شریک ہوئے۔ اجلاس میں ایف آئی اے سائبر کرائم ونگ کے توسط سے درج ایف آئی آر اور مرزا محمد علی کے بیانات کا جائزہ لیا گیا۔
کونسل کا موقف
مرزا محمد علی کے کئی بیانات میں ایسے جملے موجود ہیں جو صرف نقلِ کفر پر مبنی ہیں، مگر ان کا کوئی دینی یا شرعی مقصد نہیں۔
یہ طرزِ عمل بارہا دہرایا گیا، اس لیے جرم مزید سنگین ہو گیا ہے۔
ایک ویڈیو بیان میں قرآنِ پاک کی توہین اور معنوی تحریف بھی پائی گئی، جو توہینِ رسالت کے زمرے میں آتی ہے۔
کونسل نے کہا کہ مرزا کا طرزِ بیان فساد فی الارض کو ہوا دینے والا ہے، اس لیے ان پر مزید دفعات شامل کی جائیں۔
کونسل نے یہ بھی طے کیا کہ پاکستان کی مسیحی برادری کو مراسلہ بھیجا جائے تاکہ وہ وضاحت کریں کہ مرزا محمد علی کے بعض بیانات ان کی اجتماعی رائے یا مقدس کتب کی تعلیمات سے مطابقت رکھتے ہیں یا نہیں۔ ان کے جواب کے بعد ہی کونسل تفصیلی فیصلہ جاری کرے گی۔
دیگر فیصلے
ودہولڈنگ ٹیکس غیر شرعی قرار
بینک سے رقم نکالنے اور منتقل کرنے پر عائد ودہولڈنگ ٹیکس کو غیر شرعی قرار دے دیا گیا۔
انسولین کا معاملہ
فیصلہ کیا گیا کہ جب حلال اجزا والی انسولین دستیاب ہو تو خنزیر پر مشتمل انسولین سے پرہیز کیا جائے۔
دیت کا قانون
ترمیمی بل کو مسترد کرتے ہوئے کہا گیا کہ دیت کی شرعی مقداریں (سونا، چاندی، اونٹ) قانون میں شامل رہیں۔
سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات
کونسل نے 11 ستمبر 2025 کے فیصلے پر اعتراض کیا جس میں غیر مدخولہ عورت کے لیے عدت اور نفقہ لازم قرار دیا گیا تھا، اسے قرآن و سنت کے خلاف قرار دیا گیا۔
دیگر اقداما
شہادت کے لیے رکھے گئے قرآن مجید کے وہ نسخے، جن پر ناپاک اجزا لگے ہوں، ریکارڈنگ کے بعد فوری پاک کرنے کے لیے قانون سازی کی سفارش۔
انسانی دودھ کے ذخیرہ کرنے والے ادارے مخصوص شرائط اور قانون سازی کے تحت قائم کیے جا سکتے ہیں۔
ماہِ ربیع الاول میں مقدس تحریرات والے جھنڈوں اور بینرز کا ادب کرنے کے لیے ایک خصوصی رنگ ٹون تیار کرنے کی ہدایت۔