امریکی صدر ٹرمپ کا امن منصوبہ: مسلم رہنماؤں سے ملاقات، غزہ سے اسرائیلی انخلا اور تعمیر نو پر بات چیت

اسلام247 : ٹرمپ کا امن منصوبہ — شہباز شریف سمیت مسلم رہنماؤں سے ملاقات، غزہ کے لیے نئی راہ متعین؟

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں سخت گیر خطاب کے بعد وزیراعظم پاکستان شہباز شریف سمیت مسلم رہنماؤں سے اہم ملاقات کی۔ یہ ملاقات جنرل اسمبلی کے 80ویں اجلاس کے موقع پر اقوام متحدہ ہیڈکوارٹرز نیویارک میں ہوئی، جس میں سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، مصر، اردن، ترکی اور انڈونیشیا کے سربراہان نے شرکت کی۔

ٹرمپ کا پیغام

صدر ٹرمپ نے مسلم رہنماؤں کو براہِ راست خطاب کرتے ہوئے کہا:

“ہمیں یرغمالیوں کو واپس لانا ہے، یہ وہ گروپ ہے جو دنیا کے کسی اور گروپ سے زیادہ یہ کر سکتا ہے۔ یہ ملاقات میرے لیے اعزاز ہے کیونکہ ہم ایک ایسے بحران کو ختم کرنے جا رہے ہیں جو کبھی شروع ہی نہیں ہونا چاہیے تھا۔”

انہوں نے کہا کہ یہ 32 ملاقاتوں میں سے سب سے زیادہ اہم ہے، کیونکہ اس کا مقصد غزہ کی جنگ کا خاتمہ ہے۔

قطر کا ردعمل

قطر کے امیر شیخ تمیم بن حمد آل ثانی نے صدر ٹرمپ کا شکریہ ادا کیا اور کہا

“ہم یہاں صرف اس جنگ کو روکنے اور قیدیوں کو واپس لانے کے لیے آئے ہیں۔ ہم آپ کی قیادت پر انحصار کرتے ہیں کہ آپ غزہ کے عوام کی مدد کریں۔”

امن منصوبے کی تفصیل

وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ کا امن منصوبہ تین اہم نکات پر مشتمل ہے:

1. غزہ سے اسرائیلی افواج کا بتدریج انخلا

2. علاقائی امن فوج کی تعیناتی (عرب و مسلم ممالک کی شمولیت کے ساتھ)

3. بین الاقوامی حمایت یافتہ انتقالی و تعمیر نو پروگرام

رپورٹس کے مطابق

منصوبے میں فلسطینی اتھارٹی (PA) کا کردار موجود ہے لیکن حماس کو شامل نہیں کیا گیا۔

اسرائیل کو اس منصوبے کے بنیادی خدوخال سے آگاہ کر دیا گیا ہے، تاہم یہ براہِ راست تل ابیب کی تجویز نہیں تھی۔

امریکا چاہتا ہے کہ عرب و مسلم ممالک غزہ میں فوجی دستے بھیجنے پر متفق ہوں تاکہ اسرائیلی انخلا ممکن ہو اور تعمیر نو کے لیے مالی وسائل فراہم کیے جا سکیں۔

امریکی مؤقف

وزیر خارجہ مارکو روبیو نے فاکس نیوز سے گفتگو میں کہا کہ:

“تنازع کا مستقل حل صرف ایک مذاکراتی تصفیہ ہے۔”

فلسطینی اپنی زمین پر حکومت کریں گے، لیکن اسے **اسرائیل پر حملوں کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال نہیں کیا جا سکے گا۔”

سی بی ایس نیوز سے گفتگو میں روبیو نے اس ملاقات کو

> “غزہ میں تنازع ختم کرنے، قیدیوں کی رہائی اور انسانی امدادی پروگرام شروع کرنے کا آخری موقع” قرار دیا۔

Scroll to Top