اسلام247 : اقوام متحدہ اجلاس میں مسلم رہنماؤں کی تقاریر کے دوران مائیک بند — تکنیکی خرابی یا سنسرشپ؟
اقوام متحدہ کے حالیہ اعلیٰ سطحی اجلاس کے دوران مسلم ممالک کے متعدد سربراہانِ مملکت کی تقاریر کے دوران مائیک بند ہونے کا معاملہ سامنے آیا ہے۔ خاص طور پر اس وقت جب وہ اسرائیلی جارحیت، غزہ کی تباہ حال صورتحال اور فلسطینی ریاست کے قیام پر بات کر رہے تھے۔
بین الاقوامی ذرائع کے مطابق، یہ معاملہ محض تکنیکی خرابی بھی ہوسکتا ہے، تاہم شکوک و شبہات اس وقت بڑھ گئے جب مائیک بند ہونا بار بار اسی موقع پر پیش آیا۔
متاثر ہونے والے رہنما
ترک صدر رجب طیب اردوان
انڈونیشیا کے صدر جکو ویدودو
کینیڈا کے وزیراعظم مارک کارنی
تینوں رہنماؤں کے مائیک اس وقت بند ہوئے جب وہ فلسطینی عوام کے حقوق، اسرائیلی کارروائیوں کی مذمت اور غزہ میں انسانی بحران پر گفتگو کر رہے تھے۔
اقوام متحدہ کا مؤقف
اقوام متحدہ کے تکنیکی عملے نے وضاحت کرتے ہوئے کہا ہے کہ:
یہ خرابی صرف اور صرف تکنیکی نوعیت کی تھی،
ممکنہ وجوہات میں آڈیو مشینری کی خرابی، کیبل کنکشن یا ترجمے کے نظام میں وقفہ شامل ہیں،
مائیک بند کرنے کے پیچھے کسی سازش یا جان بوجھ کر آواز دبانے کا کوئی ثبوت نہیں ملا۔
میڈیا رپورٹس اور الزامات
ترک اخبار Türkiye Today نے دعویٰ کیا ہے کہ مائیک خودکار نظام کے تحت اس وقت بند ہوتے ہیں جب مقررین غزہ میں انسانی بحران، اسرائیلی جارحیت یا شہری ہلاکتوں کا ذکر کرتے ہیں۔ ان کے مطابق یہ سنسرشپ ٹیکنالوجی اجلاس میں نصب کی گئی تھی۔
ایک اور رپورٹ کے مطابق مقررین کو زیادہ سے زیادہ پانچ منٹ کا وقت دیا گیا تھا اور جیسے ہی مقررہ وقت ختم ہوا، مائیک خود بخود بند ہوگئے۔
سوالات باقی ہیں
اگرچہ تکنیکی خرابی کی وضاحت دی جا چکی ہے، لیکن بار بار ایک جیسے حساس موضوعات پر مائیک کا بند ہونا اس اجلاس پر سوالیہ نشان چھوڑ گیا ہے۔ عالمی مبصرین کا کہنا ہے کہ اس حوالے سے مکمل شفاف تحقیقات ضروری ہیں تاکہ اقوام متحدہ کے اجلاس پر اعتماد برقرار رہے۔