اسلام247 : ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای کا ایرانی عوام سے اہم خطاب — یورینیم افزودگی، اتحادِ قومی اور مذاکرات پر واضح مؤقف
آیت اللہ العظمی سید علی خامنہ ای نے ٹیلی ویژن پر خطاب کرتے ہوئے نئی تعلیمی سال کی آمد پر ایرانی عوام کو مبارکباد دی اور ملک و خطے کی موجودہ سیاسی، دفاعی اور سائنسی صورتحال پر تفصیلی رہنمائی فراہم کی۔ انہوں نے نوجوانوں کی علمی و ورزشی کامیابیوں کو سراہا اور حکومت کے متعلقہ وزارات کو نوجوانوں کی صلاحیتوں کے فروغ کی ہدایت دی۔
رہبر انقلاب نے خطاب میں امام سید حسن نصر اللہ کی یاد تازہ کرتے ہوئے ان کی خدمات کو اسلامی دنیا کے لیے ایک عظیم سرمایہ قرار دیا اور کہا کہ ان کی جدوجہد کا سلسلہ جاری رہے گا۔ انہوں نے بار بار اس بات پر زور دیا کہ ایرانی قوم کا اتحاد دشمن کی سازشوں کو ناکام بنانے میں اہم کردار ادا کر چکا ہے اور یہ اتحاد اب بھی قائم ہے۔
یورینیم افزودگی کے حوالے سے رہبر معظم نے کہا کہ ایران نے افزودگی کی سطح کو 60 فیصد تک بڑھایا ہے — واضح کرتے ہوئے کہ یہ اقدام ایٹمی ہتھیار بنانے کے لیے نہیں بلکہ ملکی سائنسی، زرعی، طبی اور صنعتی ضروریات کے پیشِ نظر ہے۔ انہوں نے کہا کہ دنیا کے دو سو سے زائد ممالک میں صرف چند ہی ایسے ہیں جن کے پاس افزودگی کی تکنیکی صلاحیت موجود ہے اور ایران انہی میں شمار ہوتا ہے، مگر ایران کا عزم ایٹمی ہتھیار نہ بنانا ہے۔
رہبرِ انقلاب نے کہا کہ یورینیم کی افزودگی صرف جوہری توانائی کا معاملہ نہیں بلکہ زرعی پیداوار، طبی اشیاء (مثلاً میڈیکل آئسوٹوپس)، صنعت اور ماحولیات پر بھی اثرانداز ہوتی ہے، لہٰذا ماہرین کو عوام کو اس کی اہمیت واضح انداز میں بتانی چاہیے۔
مذاکرات اور امریکہ کے ساتھ تعلقات کے بارے میں رہبر معظم نے واضح مؤقف اختیار کیا کہ اس وقت موجودہ حالات میں امریکہ سے مذاکرات نہ تو فائدہ مند ہیں اور نہ ہی حقیقتاً نتیجہ خیز ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ بعض قوتیں مذاکرات کو دھمکیوں اور شرائط کے ساتھ پیش کرتی ہیں، جو بسا اوقات ایک طرح کی زبردستی کے مترادف ہوتا ہے — ایران اس طرح کی پالیسی قبول نہیں کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ اگر مذاکرات دھمکی یا زبردستی کی بنیاد پر ہوں تو وہ ایران کے مفاد میں نہیں ہوں گے۔
خطاب میں رہبر معظم نے حالیہ 12 روزہ جنگ اور دشمن کی سازشوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ دشمن کا مقصد محض فوجی کمانڈروں کو نشانہ بنانا نہیں تھا بلکہ ملک میں بدامنی پھیلانا بھی تھا، مگر عوام اور قانون نافذ کرنے والے اداروں نے ان کوششوں کو ناکام بنایا۔ انہوں نے قوم کے اتحاد کو برقرار رکھنے کی تاکید کی۔
رہبر معظم نے بین الاقوامی حالات، خطے کی کشیدگی اور ایران کے دفاعی و سائنسی موقف کی اہمیت پر بھی زور دیا اور کہا کہ اسلامی ممالک خصوصاً ایران کو اپنی خودمختاری اور دفاعی صلاحیتوں کو مضبوط بنائے رکھنا ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : ڈائیرکٹر رافائل گروسی: ایران-آئی اے ای اے تعاون پابندیوں سے آزاد ہونا چاہیے
اہم نکات
رہبرِ انقلاب نے نئے تعلیمی سال پر ایران کے طلبہ و نوجوانوں کو مبارکباد دی۔
ایران نے یورینیم افزودگی کی سطح کو 60 فیصد تک بڑھا کر مؤکد کیا کہ مقصد دفاعی بم نہیں بلکہ سائنسی و صنعتی ضروریات ہیں۔
انہوں نے کہا کہ امریکہ کے ساتھ موجودہ حالات میں مذاکرات “نفع بخش یا قابلِ اعتماد” نہیں ہیں، خاص طور پر جب مذاکرات دھمکی یا شرائط کے ساتھ پیش کیے جائیں۔
سید حسن نصراللہ کی خدمات کو ایک دائمی فکری و معنوی سرمایہ قرار دیا گیا۔
قوم کے اتحاد کو دشمن کی سازشوں کے خلاف کلیدی قرار دیا گیا۔