فرانس اور برطانیہ نے فلسطین کو تسلیم کرلیا، عالمی سیاست میں تاریخی موڑ

اسلام247: فرانس نے فلسطین کو آزاد ریاست تسلیم کرلیا، برطانیہ میں فلسطینی سفارتخانہ قائم

فرانس نے ایک تاریخی فیصلہ کرتے ہوئے فلسطین کو آزاد ریاست کے طور پر تسلیم کرلیا۔ یہ اعلان نیویارک میں ہونے والی ایک اعلیٰ سطحی کانفرنس میں کیا گیا، جس کے بعد کانفرنس ہال تالیوں سے گونج اٹھا۔

فرانس کا اعلان

فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا کہ دو ریاستی حل کو بچانے اور اسرائیل و فلسطین کے درمیان امن قائم کرنے کے لیے یہ اقدام ضروری ہے۔

فرانس نے اعلان کیا کہ وہ فلسطینی اتھارٹی کے لیے ایک نیا فریم ورک پیش کرے گا، جس میں اصلاحات، جنگ بندی اور غزہ میں قیدیوں کی رہائی شامل ہے۔

اس بنیاد پر فرانس فلسطین میں سفارتخانہ کھولے گا۔

دیگر ممالک کی پیش رفت

فرانس کے ساتھ ساتھ موناکو نے بھی فلسطین کو تسلیم کیا۔

اس ہفتے اینڈورا، بیلجیم، لکسمبرگ اور سان مارینو بھی اس فہرست میں شامل ہوسکتے ہیں۔

اس سے قبل آسٹریلیا، برطانیہ، کینیڈا، پرتگال اور مالٹا فلسطین کو تسلیم کرچکے ہیں۔

پاکستان کا مؤقف

وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ایکس پر اس فیصلے کا خیر مقدم کیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان 1988 میں ہی فلسطین کو تسلیم کرچکا تھا اور دیگر ممالک سے بھی یہی مطالبہ کرتا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کانفرنس میں بھرپور شرکت کی، تاہم وزیر اعظم شہباز شریف اس اجلاس میں شریک نہیں ہوئے۔

محمود عباس کا خطاب

امریکی ویزا نہ ملنے پر فلسطینی صدر محمود عباس نے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب کیا۔

انہوں نے عالمی برادری سے اپیل کی کہ مزید ممالک فلسطین کو تسلیم کریں تاکہ وہ اقوام متحدہ کا مکمل رکن بن سکے۔

عباس نے وعدہ کیا کہ جنگ بندی کے ایک سال کے اندر انتخابات اور اصلاحات کرائی جائیں گی۔

برطانیہ کا تاریخی فیصلہ

برطانیہ نے بھی فلسطین کو تسلیم کرتے ہوئے لندن میں فلسطینی سفارتخانہ کھول دیا۔

فلسطینی مشن کے باہر پرچم کشائی کی تقریب منعقد ہوئی۔

برطانوی وزیر خارجہ یویٹ کوپر نے کہا کہ فلسطینی اتھارٹی اب باضابطہ طور پر سفیر تعینات کرسکتی ہے۔

برطانیہ کی وزارت خارجہ نے اپنی ویب سائٹ پر بھی “قبضہ شدہ فلسطینی علاقے” کے بجائے “فلسطین” لکھ دیا۔

ٹرمپ کا ردعمل

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اس فیصلے کی مخالفت کی، اسے حماس کو انعام دینے کے مترادف قرار دیا۔

وائٹ ہاؤس کے مطابق ٹرمپ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں اپنی تقریر میں یہ مؤقف دہرائیں گے۔

ٹرمپ پاکستان، ترکیہ، قطر، سعودی عرب، انڈونیشیا، مصر، یو اے ای اور اردن کے رہنماؤں سے ایک اجلاس میں ملاقات بھی کریں گے، جس کا مرکزی موضوع غزہ کی جنگ ہوگا۔

تجزیہ

یہ پیش رفت مشرق وسطیٰ کی سیاست میں ایک بڑا موڑ ہے۔ دہائیوں سے مغربی طاقتیں فلسطین کو تسلیم کرنے سے گریز کرتی رہی ہیں، مگر اب یکے بعد دیگرے بڑے ممالک اس سمت بڑھ رہے ہیں۔ خاص طور پر برطانیہ کا فیصلہ تاریخی ہے کیونکہ 1917 کا بالفور اعلامیہ اسرائیل کے قیام کی بنیاد بنا تھا۔

Scroll to Top