اسلام247: پاکستان-چین باہمی تجارت دو ماہ سے معطل، قومی اسمبلی کمیٹی میں انکشاف
اسلام آباد میں قومی اسمبلی کی کمیٹی برائے خارجہ امور کے اجلاس میں انکشاف ہوا ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان باہمی تجارت گزشتہ دو ماہ سے بند ہے۔
تفصیلات
ڈان نیوز کے مطابق، کمیٹی کا اجلاس چیئرپرسن حنا ربانی کھر کی زیر صدارت منعقد ہوا۔ اجلاس میں سربراہ نیشنل لاجسٹک سیل (این ایل سی) نے بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ:
گلگت بلتستان کے تاجروں کی ہڑتال کے باعث پاک-چین تجارتی سرگرمیاں مکمل طور پر رکی ہوئی ہیں۔
ہڑتال کے سبب این ایل سی کے 64 ٹرک اپنی جگہ پر کھڑے ہیں اور آگے نہیں جا پا رہے۔
وزارت خارجہ کی بریفنگ
اجلاس میں سیکرٹری خارجہ آمنہ بلوچ نے بتایا کہ:
پاکستان کی وسط ایشیائی ممالک کے ساتھ باہمی تجارت کا حجم 2.4 ارب ڈالر ہے۔
پاکستانی بینکوں کی وسط ایشیائی ممالک میں برانچز نہ ہونے سے بینکنگ ٹرانزیکشن کے مسائل ہیں۔
ڈرائیوروں کے ویزوں کے مسائل کئی سالوں سے برقرار ہیں جن پر واضح پالیسی سازی کی ضرورت ہے۔
افغانستان اور ایران کے ساتھ سیکیورٹی خدشات بھی تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ ہیں۔
صرف این ایل سی ہی وسط ایشیا کے ممالک تک ٹرانسپورٹ مہیا کر رہا ہے۔
پس منظر
گلگت بلتستان کے تاجر کئی ماہ سے سوست ڈرائی پورٹ پر انکم ٹیکس اور سیلز ٹیکس کے نفاذ اور 150 سے زائد درآمدی اشیاء پر اضافی ٹیکس لگنے کے خلاف احتجاج کر رہے ہیں۔
رواں ماہ 8 تاریخ کو تاجروں نے احتجاج کے 50 دن مکمل ہونے پر پاک-چین بارڈر پر آمد و رفت مکمل بند کر دی تھی۔
اس کے نتیجے میں سینکڑوں مسافر اور سیاح سرحد پر پھنس گئے۔
احتجاجی تحریک کے رہنما اور سابق صدر چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری، جاوید حسین نے کہا کہ مطالبات تسلیم ہونے تک امیگریشن بند رہے گی، اور چین سے آنے والی گاڑیوں کو بھی روکا گیا ہے۔