اسلام247 : امریکا نے پاکستان سے دفاعی و انٹیلی جنس بجٹ پر سول نگرانی کا مطالبہ کردیا
امریکا نے پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے دفاعی اور انٹیلی جنس بجٹ کو پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے دائرے میں لائے اور اسے مالی احتساب و شفافیت کو بہتر بنانے کا ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔
ڈان اخبار کے مطابق یہ سفارش امریکی محکمۂ خارجہ کی 2025 فِسکل ٹرانسپیرنسی رپورٹ میں کی گئی، جو دنیا بھر میں بجٹ سازی کے عمل کا سالانہ جائزہ لیتی ہے۔
رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ پاکستان کے فوجی اور انٹیلی جنس بجٹ مناسب پارلیمانی یا سول عوامی نگرانی کے تحت نہیں ہیں۔ مالی شفافیت کو بہتر بنانے کے لیے سب سے اہم قدم یہ ہے کہ انہیں سول نگرانی میں لایا جائے۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ حکومت بجٹ تجاویز بروقت شائع نہیں کرتی، جس کے باعث عوامی اور پارلیمانی بحث محدود ہو جاتی ہے۔ قرضوں کے بارے میں بھی عوامی معلومات ناکافی ہیں، خصوصاً سرکاری اداروں کے بڑے قرضوں کے حوالے سے۔ سفارش کی گئی کہ حکومت قرضوں کی تمام تفصیلات، بشمول سرکاری اداروں کے قرضے، عوامی سطح پر شائع کرے۔
یہ بھی پڑھیں : روس امریکہ کشیدگی — ٹرمپ کا پولینڈ اور بالٹک ریاستوں کے دفاع کا اعلان
کمیوں کے باوجود رپورٹ میں پاکستان کی پیش رفت کو بھی تسلیم کیا گیا ہے۔ اس میں کہا گیا کہ پاکستان کا منظور شدہ بجٹ اور سالانہ رپورٹ عوام کے لیے وسیع اور بآسانی دستیاب ہیں، اور یہ معلومات قابلِ اعتماد ہیں جنہیں سپریم آڈٹ انسٹی ٹیوشن کے ذریعے جانچا جاتا ہے۔ اس ادارے کی آزادی کو بھی سراہا گیا۔
رپورٹ کے مطابق پاکستان نے قدرتی وسائل کے معاہدوں اور لائسنسوں کے اجرا کے لیے واضح معیارات مقرر کر رکھے ہیں، اور بنیادی معلومات عوامی سطح پر دستیاب کی ہیں۔
یہ رپورٹ ایک ایسے وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان شدید مالی دباؤ کا شکار ہے۔ مالی سال 26-2025 کے بجٹ میں 175.7 کھرب روپے مختص کیے گئے، جن میں 97 کھرب روپے قرضوں کی ادائیگی اور 25.5 کھرب روپے دفاعی اخراجات کے لیے ہیں، جو گزشتہ سال کے مقابلے میں تقریباً 20 فیصد زیادہ ہیں۔
امریکی سفارشات کا مقصد پاکستان کے مالی نظم و نسق پر عوامی اعتماد اور بین الاقوامی برادری کے اعتماد کو بڑھانا ہے، بالخصوص اس وقت جب بیرونی سرمایہ کاری اور فنڈنگ ملکی معیشت کے استحکام کے لیے نہایت اہم ہیں۔