اسلام247 : یمنی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی کا بیان — اسرائیل امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ قرار
یمنی تحریک انصاراللہ کے سربراہ عبدالملک الحوثی نے کہا ہے کہ صہیونی حکومت امتِ مسلمہ کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہے اور اسرائیل نہ صرف غزہ بلکہ مکہ، مدینہ، مسجدِ اقصیٰ اور خلیجِ فارس کے ممالک کی دولت پر بھی نظریں جمائے ہوئے ہے۔
الحوثی نے 21 ستمبر کو یمن کی آزادی و خودمختاری کو عوامی ارادے، قربانی اور ایمان کا نتیجہ قرار دیا اور کہا کہ یہ انقلاب امریکا اور اس کے سفارتکاروں کی یمن میں براہِ راست مداخلت کا خاتمہ تھا۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکا اور اسرائیل یمن میں فرقہ واریت، نسلی منافرت اور داخلی انتشار پھیلا کر سماجی اتحاد کو کمزور کرنے کی کوششیں کر رہے ہیں۔
الحوثی نے الزام لگایا کہ امریکا، اسرائیل اور ان کے اتحادی سعودی اتحاد کے ذریعے یمن پر جنگ مسلط کر کے مزاحمت کو کچلنا چاہتے ہیں، اور بعض بین الاقوامی قوتیں یمن کی قومی دولت پر قابض ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب یمنی عوام نے فلسطینیوں کی حمایت میں عملی اقدام کیا تو دشمنوں نے سازشیں تیز کر دیں۔
الحوثی نے مزید کہا کہ اسرائیل کوریڈور داوود (David Corridor) منصوبے کے ذریعے فرات تک رسائی چاہتا ہے اور شام میں اقلیتوں کو اپنے مفاد کے لیے استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے عرب ممالک پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کے خلاف متحد اور عملی موقف اپنائیں، ورنہ اسرائیل غزہ، یمن، لبنان اور ایران کے محاذوں سے نجات پانے کے بعد دیگر اسلامی ممالک کو بھی نشانہ بنائے گا۔
یہ بھی پڑھیں:انصاراللہ یمن کے رہنما عبدالملک الحوثی کا عرب سربراہی اجلاس کے کمزور نتائج پر شدید تنقید۔
الحوثی نے دعویٰ کیا کہ یمن اقتصادی و عسکری طور پر خودکفیل بن رہا ہے اور عوام اپنے موقف پر ثابت قدم ہیں۔ ان کا مؤقف تھا کہ امتِ مسلمہ کو متحد ہو کر عملی اقدامات کرنے ہوں گے ورنہ دشمن اپنی جارحیت جاری رکھے گا۔