برطانیہ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کر دیا

اسلام247: برطانیہ کی جانب سے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کرتے ہوئے وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے کہا ہے کہ غزہ میں انسانوں کا پیدا کردہ بحران نئی بلندیوں پر پہنچ گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ “بھوک اور تباہی مکمل طور پر ناقابل برداشت ہے”۔ انہوں نے بتایا کہ دسیوں ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں، جن میں وہ لوگ بھی شامل ہیں جو کھانا اور پانی جمع کرتے ہوئے ہلاک ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ “یہ موت اور تباہی ہم سب کو خوفزدہ کر دیتی ہے”۔ وزیر اعظم کیئر سٹارمر نے مزید کہا کہ کچھ بیمار اور زخمی بچوں کو نکال لیا گیا ہے اور انسانی امداد میں اضافہ کیا گیا ہے، لیکن “کہیں بھی خاطر خواہ امداد نہیں پہنچ رہی ہے”۔

برطانوی وزیر اعظم نے اسرائیلی حکومت سے مطالبہ کیا کہ وہ سرحد پر پابندیاں ختم کرے اور “ان ظالمانہ ہتھکنڈوں کو روکیں اور امداد میں اضافہ ہونے دیں”۔ واضح رہے کہ اسرائیلی وزیر اعظم بنیامن نیتن یاہو نے کہا ہے کہ اس طرح کے اقدامات “دہشت گردی کو نوازنے” کے مترادف ہیں۔

یہ بھی پڑھیں : افغانستان: طالبان کا امریکہ کو کرارا جواب, بگرام ایئربیس واپس لیا گیا تو اگلے 20 سال لڑنے کو تیار ہیں

کیئر سٹارمر نے اس بات کی وضاحت کی کہ “فلسطین کو تسلیم کرنے کا مقصد حماس کو نوازنا نہیں ہے”۔ انہوں نے غزہ میں حماس کے زیر حراست یرغمالیوں کے برطانوی خاندانوں سے ملاقات کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ “ہر روز ان اذیتوں کو برداشت کرتے ہیں” اور درد کو دیکھ رہے ہیں جو اسرائیل اور برطانیہ کے لوگوں کے دلوں میں بہت گہرا ہے۔

وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ یرغمالیوں کو فوری طور پر رہا کیا جانا چاہیے اور “ہم انھیں گھر واپس لانے سے متعلق جدوجہد جاری رکھیں گے”۔

انہوں نے مزید کہا کہ “حقیقی دو ریاستی حل کے لیے ہمارا مطالبہ [حماس] کے نفرت انگیز وژن کے بالکل برعکس ہے”۔ ان کے مطابق “یہ حل حماس کے لیے انعام نہیں ہے کیونکہ اس کا مطلب یہ ہے کہ حماس کا کوئی مستقبل، حکومت میں کوئی کردار نہیں ہو سکتا اور نہ ہی سلامتی میں کوئی کردار ہو سکتا ہے”۔

Scroll to Top