اسلام247 : افغانستان کی طالبان حکومت نے بگرام ایئربیس کی امریکی واپسی کی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کردیا — کہا، اگر ایئربیس واپس مانگی گئی تو اگلے 20 سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں
افغانستان کی طالبان حکومت نے بگرام ایئربیس کو دوبارہ حاصل کرنے کی امریکی دھمکیوں کو سختی سے مسترد کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر امریکا کو ہمارے اڈے واپس چاہئیں تو ہم اس سے اگلے 20 سال مزید لڑنے کے لیے تیار ہیں اور بیرونی فوج کی موجودگی بحال کرنے کی کسی بھی کوشش کی صورت میں سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑے گا۔
چینی خبر رساں ادارے شنوا کی رپورٹ کے مطابق افغان وزیرِ دفاع محمد یعقوب مجاہد نے کہا کہ “ہمارا جواب یہ ہے کہ اگر آپ واپس آنا اور اڈے لینا چاہتے ہیں تو ہم آپ کے خلاف اگلے 20 سال تک لڑنے کے لیے تیار ہیں”۔ واضح رہے کہ محمد یعقوب، امارتِ اسلامیہ افغانستان کے بانی ملا عمر کے فرزند ہیں۔
جنرل ڈائریکٹوریٹ آف انٹیلی جنس کے نائب اول ملا تاجمیر جواد نے بھی کہا کہ افغان حکومت موجودہ نظام کے تحفظ کے لیے پرعزم ہے۔ افغان وزارتِ خارجہ کے سیاسی ڈائریکٹر ذاکر جلالی نے امریکی واپسی کے تصور کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ افغان کبھی بھی اپنی سرزمین پر غیر ملکی افواج کو قبول نہیں کریں گے اور واشنگٹن کے ساتھ کسی بھی مکالمے میں دوبارہ فوجی قبضے کا معاملہ خارج ہونا چاہیے۔
رائٹرز اور اے ایف پی کے مطابق وزارتِ دفاع کے چیف آف اسٹاف فصیح الدین فطرت نے کہا کہ “افغانستان کی سرزمین کا ایک انچ بھی کسی کے حوالے کرنے کا کوئی معاہدہ ممکن نہیں” اور ایک سرکاری بیان میں حکومت نے خبردار کیا کہ افغانستان کی آزادی اور علاقائی سالمیت انتہائی اہمیت کی حامل ہے۔
یہ پیش رفت امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بگرام ایئربیس واپس نہ کرنے کی صورت میں افغانستان کو دی گئی دھمکی کے بعد سامنے آئی، جب انہوں نے ٹروتھ سوشل پر لکھا تھا کہ اگر افغانستان بگرام ایئربیس اُن لوگوں کو واپس نہیں دیتا جنھوں نے اسے بنایا تھا — یعنی امریکا — تو “بہت بری چیزیں” ہوں گی۔
بگرام ایئربیس دو دہائیوں تک امریکی اور نیٹو آپریشنز کا محور رہا؛ جولائی 2021 میں یہ ایئربيس خالی کیا گیا اور طالبان کے کنٹرول میں آ گیا۔ بعض سابق امریکی حکام نے خبردار کیا ہے کہ بگرام پر دوبارہ قبضہ ایک بڑی فوجی مہم بن سکتا ہے جس کے لیے دس ہزار سے زائد فوجیوں اور جدید فضائی دفاعی نظام کی ضرورت پڑے گی، اور اس کے ساتھ حفاظت کے لیے بڑے انسانی اور ٹیکنیکل وسائل درکار ہوں گے۔
ماہرین کے مطابق، اگر امریکا دوبارہ بگرام پر قبضہ کرنے کی کوشش کرے تب اسے طالبان مزاحمت، افغانستان میں القاعدہ/داعش جیسے گروہوں کے ردعمل، اور ایران یا دیگر علاقائی طاقتوں کے ممکنہ ردِ عمل کا بھی سامنا کرنا پڑے گا — اس کے علاوہ اس بیس کو بھرپور طریقے سے محفوظ بنانا ابتدائی طور پر انتہائی مشکل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں : امریکی صدر ٹرمپ کی طالبان کو بگرام ایئر بیس واپس نہ کرنے پر سنگین دھمکی