اسلام247 : ایران پر دوبارہ پابندیاں خطے میں تنازعات بڑھا سکتی ہیں، پاکستان
پاکستان نے خبردار کیا ہے کہ ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں دوبارہ عائد کرنے سے صورتحال مزید بگڑ سکتی ہے اور خطے میں نئے تنازعات کو جنم دے سکتی ہے۔
تفصیلات کے مطابق، سلامتی کونسل میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے قرارداد 2231 (2015) اور جوہری معاہدے سے متعلق ووٹنگ کے بعد اپنے بیان میں کہا کہ پاکستان نے قرارداد کے حق میں ووٹ دیا ہے کیونکہ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام سے متعلق تمام مسائل کو صرف اور صرف پرامن ذرائع، مکالمے اور تعاون کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے۔
پاکستانی مندوب نے کہا کہ موجودہ حالات میں پابندیوں کے نفاذ سے فریقین کے مؤقف مزید سخت ہوں گے اور ایک دوستانہ حل کی راہ مزید تنگ ہو جائے گی۔ ان کے مطابق اس وقت سب سے زیادہ ضرورت زیادہ سفارتکاری اور بات چیت کی ہے۔
یہ بھی پڑھیں : ایران پر اقوام متحدہ کی پابندیاں بحال کی سلامتی کونسل نے قرارداد مسترد کردی
معاہدے پر پیش رفت
انہوں نے کہا کہ ایران اور عالمی ایٹمی توانائی ایجنسی کے درمیان حالیہ معاہدہ، جس کے تحت معائنہ جات اور تصدیقی سرگرمیاں دوبارہ شروع ہوئیں، ایک مثبت پیش رفت ہے اور اسی راستے کو آگے بڑھانے کی ضرورت ہے تاکہ باہمی اعتماد بحال ہوسکے۔
پاکستان کا مؤقف
جوہری معاہدہ ایک بہترین ماڈل تھا جس نے خدشات دور کرنے اور ذمہ داریاں واضح کرنے کا جامع روڈ میپ فراہم کیا۔
بدقسمتی سے اس عمل کو متاثر کیا گیا، جس کے نتیجے میں تنازعات اور شکوک و شبہات نے جنم لیا۔
ایران کا ہمسایہ اور دوست ہونے کے ناطے پاکستان کسی ایسے اقدام کی حمایت نہیں کر سکتا جو خطے کو مزید غیر مستحکم کرے۔
مشرقِ وسطیٰ پہلے ہی متعدد بحرانوں کا شکار ہے اور مزید تناؤ کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
امن کی راہ
پاکستانی مندوب نے زور دیا کہ اب بھی موقع موجود ہے کہ باہمی تعاون اور سیاسی بصیرت کے ساتھ مذاکرات کے ذریعے مسئلے کا پرامن حل نکالا جائے۔ ان کے الفاظ میں:
“سفارتکاری اور دھونس ساتھ نہیں چل سکتے۔”