طالبان نے بگرام ایئربیس امریکا کو دینے کا امکان مسترد کردیا

اسلام247 : افغان طالبان کا بگرام ایئربیس امریکا کو دینے سے انکار

افغان طالبان کے سینئر عہدیدار ذاکر جلالی نے واضح کیا ہے کہ بگرام ایئربیس امریکا کو دینے کا کوئی امکان نہیں، افغان عوام نے تاریخ میں کبھی کسی غیر ملکی فوجی موجودگی کو قبول نہیں کیا۔

جلالی نے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ’ایکس‘ پر کہا کہ امریکا اور افغانستان کو تعلقات رکھنے کی ضرورت ہے، مگر یہ تعلقات صرف اقتصادی اور سیاسی بنیادوں پر باہمی احترام اور مشترکہ مفادات کے ذریعے ممکن ہیں، کسی فوجی اڈے کے قیام کے ذریعے نہیں۔

یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے عندیہ دیا تھا کہ بگرام ایئربیس دوبارہ حاصل کرنا ممکن ہو سکتا ہے اور وہ اس معاملے کو ایک “ڈیل” کے ذریعے دیکھ رہے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مسئلہ فلسطین پیچیدہ ہے مگر حل ہو جائے گا، افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینا چاہتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ 

ٹرمپ کا مؤقف

ٹرمپ نے برطانیہ میں پریس کانفرنس کے دوران کہا کہ امریکا نے یہ ایئربیس طالبان کو “مفت” میں دے دیا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ ان کا اصل منصوبہ بگرام کو چین کے مقابلے میں رکھنے کا تھا، کیونکہ یہ چین کی مبینہ جوہری تنصیبات سے صرف “ایک گھنٹے کی مسافت” پر ہے۔

تاہم، بی بی سی کی تحقیقات کے مطابق شمال مغربی چین کی جوہری ٹیسٹنگ سائٹ تقریباً 2000 کلومیٹر دور ہے، اور بگرام ایئربیس پر چینی موجودگی کے کوئی شواہد نہیں ملے۔

طالبان اور چین کا ردعمل

طالبان نے ٹرمپ کے دعوے کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ بگرام پر چین کی موجودگی نہیں ہے۔

چینی وزارتِ خارجہ نے کہا کہ وہ افغانستان کی علاقائی سالمیت اور خودمختاری کا احترام کرتا ہے اور مستقبل افغان عوام کے ہاتھوں میں ہونا چاہیے۔

پس منظر

بگرام ایئربیس دو دہائیوں تک نیٹو افواج کا اہم مرکز رہا۔

طالبان کے کنٹرول سنبھالنے سے قبل یہ افغان فوج کے حوالے کیا گیا تھا۔

امریکا کا انخلا ٹرمپ کی پہلی انتظامیہ کے معاہدے کا حصہ تھا جو صدر جو بائیڈن کے دور میں 2021 میں مکمل ہوا۔

حالیہ رابطے

رائٹرز کے مطابق امریکا اور طالبان کے درمیان حالیہ بات چیت ہوئی ہے، جس میں توجہ افغانستان میں موجود امریکی شہریوں پر مرکوز تھی۔

Scroll to Top