مسئلہ فلسطین پیچیدہ ہے مگر حل ہو جائے گا، افغانستان سے بگرام ایئربیس واپس لینا چاہتے ہیں، امریکی صدر ٹرمپ

اسلام247 : امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیراعظم کیئر اسٹارمر کا مشترکہ پریس کانفرنس میں بیان — مشرقِ وسطیٰ میں انسانی بحران ختم کرنے کی کوششیں جاری

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اور برطانوی وزیرِ اعظم کیئر اسٹارمر نے بکنگھم شائر کی رہائش گاہ (چیکرز) میں مشترکہ نیوز کانفرنس میں کہا کہ وہ مل کر مشرقِ وسطیٰ میں انسانی بحران ختم کرنے، متاثرین تک فوری امداد پہنچانے، یرغمالیوں کی رہائی اور بالآخر ایک جامع امن منصوبے کی طرف واپسی کے لیے کام کر رہے ہیں۔

اسٹارمر نے کہا کہ دونوں ملک امدادی رسائل، یرغمالیوں کی رہائی اور ایک ایسے روڈ میپ کے لیے کوشاں ہیں جو اسرائیلی اور فلسطینی دونوں کے لیے امن اور سلامتی یقینی بنائے۔ انہوں نے کہا کہ حالات سنگین ہیں اور غزہ کی موجودہ صورتِ حال ناک بھُلا سکتی نہیں۔

اس موقع پر کیئر اسٹارمر نے روس کے صدر پیوٹن پر سخت تنقید کی اور کہا کہ پیوٹن نے حالیہ دنوں میں اپنا اصل چہرہ دکھایا، یوکرین میں بڑے حملے کیے، نیٹو کی فضائی حدود کی خلاف ورزیاں کیں اور بے نظیر وحشت پھیلائی — یہ وہ رویّہ نہیں جو امن کا خواہاں شخص دکھائے گا۔

امریکی صدر ٹرمپ نے کہا کہ امریکا نیٹو کو ہتھیار بھیج رہا ہے اور نیٹو نے دفاعی اخراجات کا ہدف بڑھا کر 5 فیصد تک لے جانے میں کردار ادا کیا ہے۔ ٹرمپ نے پیوٹن کے بارے میں کہا کہ وہ انہیں مایوس کر چکے ہیں اور کہ متعدد جنگوں کو ختم کروانے کی کوششیں کی گئیں مگر بعض مسائل پیچیدہ رہے۔

ٹرمپ نے کہا کہ امریکا اور برطانیہ اسرائیل اور غزہ کے مسئلے پر بہت محنت کر رہے ہیں، معاملہ پیچیدہ ہے مگر حل نکالا جا سکتا ہے۔ کیئر اسٹارمر نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کے ممکنہ منصوبے کے بارے میں کہا کہ یہ مکمل امن پیکیج کا حصہ ہو کر دیکھا جائے گا — یرغمالیوں کی رہائی اور غزہ میں ہنگامی امداد اولین ترجیحات ہیں۔

پریس کانفرنس میں ٹرمپ اور اسٹارمر نے دیگر موضوعات پر بھی بات کی: ٹرمپ نے افغانستان کے سابق بگرام ایئربیس کو واپس لینے کی خواہش ظاہر کی اور اس حوالے سے حکمتِ عملی پر بات کی۔ کیئر اسٹارمر نے یوکرین میں جاری حملوں اور انسانی جانوں کے ضیاع پر تنقید جاری رکھی۔

Scroll to Top