اسلام247:یورپی ملک لکسمبرگ نے فلسطینی ریاست کو تسلیم کرنے کا اعلان کر دیا ہے اور کہا ہے کہ حتمی فیصلہ 23 ستمبر کو اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے آغاز پر دیگر ممالک سے مشاورت کے بعد کیا جائے گا۔
مقامی میڈیا کے مطابق وزیراعظم لوک فریڈن اور وزیرِ خارجہ زاویئر بیٹل نے اس معاملے پر ایک پارلیمانی کمیشن قائم کرنے کا اعلان کیا ہے۔ لکسمبرگ طویل عرصے سے مشرقِ وسطیٰ کے بحران کے دو ریاستی حل کی حمایت کرتا رہا ہے مگر اب تک فلسطینی خودمختاری کو باضابطہ تسلیم کرنے سے گریز کرتا آیا تھا۔
لکسمبرگ فلسطین کو تسلیم کرنے والا ساتواں مغربی ملک بننے جا رہا ہے۔ اس سے قبل فرانس، برطانیہ، کینیڈا، آسٹریلیا، بیلجیم اور مالٹا ایسا کر چکے ہیں۔ پرتگال نے بھی عندیہ دیا ہے کہ وہ اس حوالے سے غور کر رہا ہے۔
ترکیہ کی سرکاری خبر رساں ایجنسی انادولو کے مطابق فلسطینی حکومت نے لکسمبرگ کے اعلان کا خیرمقدم کیا ہے۔ فلسطینی وزارتِ خارجہ نے وزیراعظم فریڈن اور وزیرِ خارجہ بیٹل کو سراہتے ہوئے اسے ایک ’بہادرانہ مؤقف‘ قرار دیا جو بین الاقوامی قانون اور دو ریاستی حل کی بنیاد پر امن کی کوششوں کے عین مطابق ہے۔
یہ بھی پڑھیں:اقوامِ متحدہ میں فلسطین-اسرائیل 2 ریاستی حل کے اعلامیے کی بھاری اکثریت سے توثیق
وزارتِ خارجہ نے مزید کہا کہ جن ممالک نے ابھی تک فلسطین کو تسلیم نہیں کیا، انہیں فوری طور پر ایسا کرنا چاہیے تاکہ جنگ کے خاتمے اور امن کے فروغ کے لیے عالمی اتفاقِ رائے کو مضبوط بنایا جا سکے۔
یہ بھی پڑھیں:بیلجیئم کا فلسطینی ریاست کو تسلیم، اسرائیل پر پابندیاں عائد کرنے کا اعلان
اس وقت اقوام متحدہ کے 193 رکن ممالک میں سے 149 فلسطین کو ایک خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کر چکے ہیں۔ اسرائیل کو خدشہ ہے کہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں مزید ممالک بھی ایسا قدم اٹھا سکتے ہیں، جبکہ امریکہ اس عمل کی سخت مخالفت کرتا ہے۔