افغانستان کو دہشت گردوں اور پاکستان میں سے ایک کا انتخاب کرنا ہوگا: پاکستانی وزیر اعظم

اسلام 247 :
پاکستانی میڈیا کے مطابق صوبہ خیبرپختونخوا میں سیکورٹی فورسز پر ٹی ٹی پی کے دہشت گردانہ حملے میں بارہ سیکورٹی اہلکاروں کی ہلاکت کے بعد وزیرِاعظم شہباز شریف بنوں پہنچے جہاں فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پہلے ہی موجود تھے۔

اس موقع پر پاکستانی وزیرِاعظم اور پاکستانی آرمی چیف نے دہشت گردی سے متعلق اہم اور اعلیٰ سطح کے اجلاس میں شرکت کی اور جنوبی وزیرستان آپریشن میں مارے گئے بارہ فوجی جوانوں کی نمازِ جنازہ میں بھی شرکت کی۔

پاکستانی فوج کا کہنا ہے کہ سیکورٹی فورسز کی کارروائی میں پینتیس دہشت گردوں کو موت کے گھاٹ اتار دیا گیا ہے۔

یہ بھی پڑھیں :پاکستانی سیکیورٹی فورسز کے آپریشنز میں 35 دہشت گرد ہلاک، 12 جوان شہید
پاکستانی وزیرِاعظم شہباز شریف نے دعویٰ کیا کہ دہشت گردی کے واقعات میں افغان باشندے شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشت گرد افغانستان سے آ کر پاکستان میں دہشت گردی کر رہے ہیں، غیر قانونی طور پر پاکستان میں مقیم افغان باشندوں کا جلد انخلاء انتہائی اہم ہے۔

شہباز شریف نے کہا کہ افغانستان کو خارجیوں یعنی دہشت گردوں اور پاکستان میں سے ایک کو انتخاب کرنا ہوگا۔

واضح رہے کہ افغانستان کی عبوری طالبان حکومت دہشت گردی کے لیے افغانستان کی سرزمین استعمال ہونے کے پاکستان کے الزامات کو ہمیشہ مسترد کرتی رہی ہے۔

Scroll to Top