اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے فلسطین-اسرائیل 2 ریاستی حل کے لیے اعلامیے کی بھاری اکثریت سے توثیق کر دی۔
خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘ کے مطابق اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی نے بھاری اکثریت سے ایک اعلامیے کی توثیق کی جس میں اسرائیل، فلسطین 2 ریاستی حل کے لیے قابلِ عمل، وقت کے تعین کے ساتھ اور ناقابلِ واپسی اقدامات کو شامل کیا گیا ہے۔
7 صفحات پر مشتمل اعلامیہ جولائی میں سعودی عرب اور فرانس کی میزبانی میں منعقد ہونے والی بین الاقوامی کانفرنس کا نتیجہ ہے، جس کا امریکا اور اسرائیل نے بائیکاٹ کیا تھا۔
اعلامیےکی توثیق کرنے کے حق میں 142 ووٹ آئے، 10 نے مخالفت کی، جبکہ 12 ممالک نے غیر حاضری اختیار کی۔
واضح رہے کہ انڈیپینڈیٹ اردو کی رپورٹ کے مطابق ’اعلان نیویارک‘ کے نام سے یہ اس اعلامیے کا مقصد فلسطین اور اسرائیل کے درمیان تنازع کے دو ریاستی حل میں نئے سرے سے جان ڈالنا ہے لیکن اس میں فلسطینی تنظیم حماس شامل نہ ہو۔
یہ ووٹنگ عالمی رہنماؤں کی 22 ستمبر کو اقوامِ متحدہ کی جنرل اسمبلی اجلاس کے موقع پر ہونے والی ملاقات سے قبل منعقد ہوئی، توقع کی جارہی ہے کہ جنرل اسمبلی کے آئندہ اجلاس میں برطانیہ سمیت دیگر ممالک باضابطہ طور پر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے۔
قرارداد کی تمام خلیجی عرب ریاستوں نے حمایت کی جبکہ اسرائیل اور امریکا نے اس کے خلاف ووٹ دیا، ان کے ساتھ دیگر ممالک میں ارجنٹائن، ہنگری، مائکرونیشیا، ناؤرو، پالو، پاپوا نیو گنی، پیراگوئے اور ٹونگا بھی شامل تھے۔
قرارداد کے منظور شدہ اعلامیے میں کہا گیا ہےکہ غزہ میں جنگ بندی ہونی چاہیے اور اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ کے تحت ایک عارضی بین الاقوامی استحکام مشن کی تعیناتی کی حمایت کی گئی ہے۔
امریکا نے اس قرارداد کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ ان ووٹوں کو ایک اور غلط سمت میں اٹھایا گیا بے وقت تشہیری حربہ قرار دیا، جس نے سنجیدہ سفارتی کوششوں کو نقصان پہنچایا ہے۔
امریکی سفارتکار مورگن اورٹیگس نے جنرل اسمبلی میں کہا کہ یقین رکھیے، یہ قرارداد حماس کے لیے تحفہ ہے، امن کو فروغ دینے کے بجائے اس کانفرنس نے جنگ کو طول اور حماس کو حوصلہ دیا ہے۔
اسرائیل، جو طویل عرصے سے اقوامِ متحدہ پر الزام لگاتا آیا ہے کہ اس نے7 اکتوبر کے حملوں پر حماس کا نام لے کر مذمت نہیں کی، اس نے بھی جنرل اسمبلی کے اعلامیے کو یکطرفہ قرار دے کر مسترد کر دیا اور ووٹ کو تماشہ قرار دیا۔
قبل ازیں، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں جمعرات کو پاکستان اور اسرائیل کے درمیان سخت جملوں کا بھی تبادلہ ہوا، پاکستان نے قطر میں حماس رہنماؤں پر حالیہ اسرائیلی حملے کو ’غیر قانونی، بلا اشتعال اور خطے کے استحکام کے لیے خطرہ‘ قرار دیا۔
پاکستان کے مستقل مندوب برائے اقوام متحدہ عاصم افتخار احمد نے اپنے خطاب کا آغاز اسرائیلی حملے کی سخت مذمت سے کیا اور اسے قطر کی خودمختاری کی خلاف ورزی اور ’ڈھٹائی پر مبنی اور غیر قانونی کارروائی‘ قرار دیا۔
انہوں نے کہا کہ ’یہ غیر قانونی اور ڈھٹائی پر مبنی حملہ کوئی الگ واقعہ نہیں بلکہ اسرائیل کی جارحیت اور بین الاقوامی قانون کی خلاف ورزی کے ایک بڑے اور مستقل سلسلے کا حصہ ہے جو خطے کے امن و استحکام کو کمزور کرتا ہے‘۔
واضح رہے کہ غزہ کے محکمہ صحت کے مطابق اس جنگ میں اب تک 64 ہزار سے زائد فلسطینی شہید ہو چکے ہیں، جن میں سے اکثریت عام شہریوں کی ہے۔