حملے کا خوف، نتن یاہو اچانک پریس کانفرنس چھوڑنے پر مجبور

صیہونی وزیر اعظم نتن یاہو نے بظاہر نامعلوم وجوہات کی بنا پر اچانک اپنی پریس کانفرنس ادھوری چھوڑ دی اور نامعلوم مقام کی طرف روانہ ہوگئے۔ یہ پریس کانفرنس اس وقت منعقد کی گئی تھی جب نیتن یاہو نے قدس کے مضافات میں بڑے پیمانے پر غیر قانونی صیہونی آبادکاری کے منصوبے E1 پر دستخط کیے۔

تفصیلات کے مطابق، نتن یاہو مقبوضہ مغربی کنارے کی غیر قانونی بستی معالیہ ادومیم میں موجود تھے جہاں انہوں نے منصوبے پر دستخط کے بعد صحافیوں سے گفتگو شروع کی۔ تاہم اچانک کہا کہ مجھے یہاں سے ایک ایسے معاملے کے باعث جانا ہوگا جس کی تفصیلات اس وقت ظاہر نہیں کرسکتا اور فوری طور پر پریس کانفرنس چھوڑ کر روانہ ہوگئے۔

ابھی تک اس اچانک فیصلے کی کوئی باضابطہ وضاحت سامنے نہیں آئی ہے، لیکن صیہونی میڈیا نے اطلاع دی ہے کہ نتن یاہو کو حفاظتی وجوہات کے تحت تل ابیب میں واقع سیکیورٹی ہیڈکوارٹر ’’کریا‘‘ منتقل کیا گیا ہے۔

فلسطینی خبر رساں ایجنسی ’’سما‘‘ نے بھی فوری خبر میں بتایا کہ صیہونی ذرائع کے مطابق نتن یاہو وزارت جنگ کے آپریشن کمانڈ سینٹر کی جانب چلے گئے ہیں۔

اس سے قبل نتن یاہو نے منصوبے پر دستخط کرتے ہوئے اپنے خطاب میں کہا کہ معالیہ ادومیم اسرائیل کا حصہ ہے اور ہمیشہ اسرائیل کا حصہ رہے گا۔ انہوں نے دعوی کیا کہ اسرائیل کی مشرقی سرحد معالیہ ادومیم نہیں بلکہ وادی اردن ہے۔

مزید برآں، نیتن یاہو نے ایک بار پھر واضح کیا کہ اسرائیل کسی آزاد فلسطینی ریاست کے قیام کی اجازت نہیں دے گا۔ ہم پہلے ہی عہد کرچکے ہیں کہ فلسطینی ریاست قائم نہیں ہوگی اور اب حقیقت یہ ہے کہ ایسا کوئی ملک موجود نہیں ہے۔

Scroll to Top