قطری وزیر اعظم اور وزیر خارجہ محمد بن عبدالرحمن بن جاسم الثانی نے بدھ کے روز CNN کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ “اسرائیل میں کوئی بھی سیاست دان، نیتن یاہو سے لے کر بینیٹ اور لیبڈ تک، اور کوئی بھی انٹیلی جنس ایجنسی، شن بیٹ سے لے کر موساد اور وزارت دفاع تک، اگر دوحہ میں حماس کے دفتر کے قیام سے لاعلمی ظاہر کرے تو یہ بات ھرگزدرست نہیں ہے۔
انہوں کہا کہ دہشت گردی کو پناہ دینے کا بہانا بنا کر قطر پر حملہ کرنا بلاجواز ہے۔
قطر کے وزیر اعظم نے مزید کہا کہ ہم سمجھ رہے تھے کہ ہمارا واسطہ مہذب لوگوں سے اور ہم اسی بنیاد پر پیش آ رہے تھے۔
۔انہوں نے کہا کہ ” نیتن یاہو کا یہ عمل( قطر پر حملہ) وحشیانہ تھا۔
انہوں نے مزید کہا کہ منگل کے روز دوحہ پر اسرائیلی حکومت کے حملے نے غزہ میں فلسطینی یرغمالیوں کے لیے “کسی بھی امید” کو ختم کر دیا اور ان افراد کے اہل خانہ، جو جنگ بندی کے لیے قطر کی ثالثی پر بهروسه کر رہے، اب انکی آزادی سے مایوس ہو گئے ہیں۔