فرانس میں “سب کچھ روک دو” احتجاجی مہم کے تحت ملک گیر مظاہرے+ ویڈیو

فرانس میں حکومت مخالف ملک گیر احتجاجی تحریک “سب کچھ روک دو” (Block Everything) کے تحت ہزاروں افراد سڑکوں پر نکل آئے۔ اس دوران ملک کے کئی شہروں میں دھواں، آگ اور آنسو گیس شیلنگ کے مناظر دیکھنے کو ملے۔ مظاہرین نے بجٹ کٹوتیوں اور سیاسی بحران کے خلاف نعرے بازی کی۔

یہ مظاہرے صدر ایمانوئل میکرون کے لیے ایک بڑے امتحان میں بدل گئے اور نئے وزیرِاعظم سباسٹین لکورنو کے پہلے ہی دن کو سخت دباؤ کا شکار بنا دیا۔ اگرچہ مظاہرین کا مقصد پورے ملک کو مفلوج کرنا تھا لیکن احتجاج اس حد تک نہیں پہنچ سکا، پھر بھی اس نے عام زندگی کو شدید متاثر کیا اور جگہ جگہ ہنگامہ آرائی دیکھنے کو ملی۔

مظاہرین کو روکنے کے لیے ملک بھر میں تقریبا ۸۰ ہزار پولیس اہلکار تعینات کیے گئے جو رکاوٹیں ہٹانے اور مظاہرین کو قابو کرنے کی کوشش کرتے رہے۔ اس دوران ۴۵۰ سے زائد افراد کو گرفتار کیا گیا۔ پولیس اور مظاہرین کے درمیان تصادم کے نتیجے میں کئی پولیس اہلکار زخمی ہوئے اور سینکڑوں کو حراست میں لیا گیا۔ رینس شہر میں ایک بس کو آگ لگا دی گئی، جب کہ جنوب مغربی علاقے میں بجلی کی تاریں کاٹنے سے ٹرین سروس معطل ہوگئی اور ٹریفک جام ہوگیا۔

وزیر داخلہ برونو رٹایو نے دعوی کیا کہ ملک بھر میں دو لاکھ افراد نے احتجاج میں حصہ لیا، لیکن مزدور یونین سی جی ٹی نے یہ تعداد ڈھائی لاکھ بتائی۔ ملک کے مختلف حصوں میں ۸۰۰ سے زائد احتجاجی مظاہرے ہوئے۔

اگرچہ یہ تحریک ۲۰۱۸ کی “یلو ویسٹ” بغاوت کی حد تک نہیں پہنچی، مگر اس نے ایک بار پھر صدر میکرون کی صدارت کے دوران بار بار پیدا ہونے والے سیاسی بحران کو اجاگر کردیا۔ اس سے قبل بھی ۲۰۲۲ میں پنشن اصلاحات کے خلاف مظاہرے اور ۲۰۲۳ میں پیرس کے نواح میں ایک نوجوان کی پولیس فائرنگ سے ہلاکت کے بعد ملک گیر بدامنی دیکھی گئی تھی۔

احتجاج کا سلسلہ اس وقت شروع ہوا جب وزیرِاعظم فرانسوا بایرو پارلیمنٹ میں اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے میں ناکام ہوگئے۔

Scroll to Top