گہرے شکوک و شبہات کا سایے میں ایران اور عالمی جوہری ایجنسی کے درمیان تعاون کا نیا دور

ایران کا پرامن جوہری پروگرام کئی دہائیوں سے عالمی سطح پر توجہ کا مرکز رہا ہے، جس کے دوران مغربی ممالک کی جانب سے مسلسل خدشات اور شبہات کا اظہار کیا جاتا رہا ہے۔ ایران بارہا واضح کرچکا ہے کہ اس کا جوہری پروگرام صرف توانائی کے پرامن مقاصد کے لیے ہے اور وہ عالمی ادارہ برائے ایٹمی توانائی کے ساتھ مکمل تعاون کو یقینی بناتا رہا ہے۔ تاہم، ادارے کے سربراہ رافائل گروسی کی بعض حالیہ سرگرمیوں نے ایران میں شکوک و شبہات کو جنم دیا ہے، جنہیں ایران میں غیر جانبداری کی خلاف ورزی کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔

مزید برآں، امریکہ اور صہیونی حکومت کی جانب سے ایران کی پرامن جوہری تنصیبات پر ممکنہ حملوں کے خدشات نے خطے میں تناؤ بڑھا دیا ہے۔ عالمی ایجنسی نے حملوں کے بارے میں جانبدارانہ رویہ اختیار کیا اور مذمت تک نہیں کی جس کی وجہ سے ایران میں ایجنسی اور اس کے سربراہ کے خلاف نفرت کی لہر پیدا ہوگئی۔ ایرانی پارلیمنٹ نے عالمی ایجنسی کے ساتھ تعاون کے حوالے سے ایسے قوانین منظور کیے ہیں جو قومی مفاد اور ایٹمی توانائی کی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی نگرانی میں تعاون کے فریم ورک کو متعین کرتے ہیں۔

مغربی ممالک نے دباؤ بڑھانے کی غرض سے اسنیپ بیک میکانزم کو فعال کرنے کی دھمکی دی جس سے ماحول میں مزید کشیدگی پیدا ہوئی۔ روس اور چین جیسی عالمی طاقتوں نے ایران کے موقف کی حمایت کردی اور پرامن ایٹمی ٹیکنالوجی کو اس کا حق دیا۔ دونوں طرف سے تند و تیز بیانات کے بعد نائب وزرائے خارجہ کی سطح پر مذاکرات ہوئے اگرچہ مغربی ذرائع ابلاغ نے مذاکرات کو ناکام قرار دیا تاہم عالمی ایجنسی کے ایک وفد نے بوشہر پلانٹ کا دورہ کیا جس کو تعاون کے نئے مرحلے کا آغاز قرار دیا جارہا ہے۔ یہ اقدام ایسے وقت میں کیا گیا ہے جب ایران کے اندرونی سیاسی اور میڈیا کے حلقوں نے غیر ملکی معائنہ کاروں کی موجودگی پر مختلف ردعمل ظاہر کیے ہیں۔

ایران میں آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کی موجودگی پر پارلیمنٹ کے بعض اراکین نے سخت اعتراضات کیے۔ اس پر ایران کی پارلیمنٹ کے سربراہ محمد باقر قالیباف نے ایک رکن کے اعتراض کے جواب میں کہا کہ اس معاملے میں قانون کی مکمل پاسداری کی گئی ہے۔

 وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے پارلیمنٹ کی قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا کہ معائنہ کار محض بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے ایندھن کی تبدیلی کے مقصد سے ایران آئے ہیں۔ اس کے علاوہ بمباری سے متاثرہ تنصیبات کے معائنے کا کوئی پروگرام نہیں ہے۔

ایٹمی توانائی کے ایرانی ادارے کے ترجمان بہروز کمالوندی نے وضاحت کی کہ بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے طے شدہ شیڈول اور بجلی کی بروقت فراہمی کے لیے، آئی اے ای اے کے معائنہ کاروں کو ایندھن کی تبدیلی کے عمل کی نگرانی کرنے کی اجازت دی گئی ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ واضح رہے کہ کسی بھی معائنہ کاری کا آغاز ایران اور عالمی ایجنسی کے درمیان تعاون کے فریم ورک پر اتفاق اور سپریم نیشنل سیکیورٹی کونسل کی منظوری کے بعد ہی ممکن ہے، جیسا کہ حالیہ پارلیمانی قرارداد میں طے پایا ہے۔

آئی اے ای اے کے سربراہ رافائل گروسی نے ایک امریکی چینل کو دیے گئے انٹرویو میں ایران اور عالمی ایجنسی کے ممکنہ معاہدے سے متعلق میڈیا رپورٹس پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ جب فضائی حملے شروع ہوئے تھے تو یہ واضح ہو گیا تھا کہ معائنہ جاری رکھنا ممکن نہیں۔ یہ جنگی حالات تھے اور ہمیں ملک چھوڑنا پڑا۔ اس کے بعد سے ہم ایران کے ساتھ مسلسل رابطے میں ہیں تاکہ واپسی کے لئے ماحول کو سازگار بنایا جاسکے۔۔ لیکن یہ کام آسان نہیں ہے کیونکہ ایران کے اندر کچھ لوگ بین الاقوامی معائنہ کاروں کی موجودگی کو اپنی قومی سلامتی کے لیے نقصان دہ سمجھتے ہیں جبکہ کچھ لوگ اس کے مخالف ہیں۔ اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمیں واپس جانے اور اپنی ذمہ داریاں ادا کرنے کے لیے انتظامات کی ضرورت ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ اگر آپ جون میں پیش آنے والے واقعات کے تکرار سے بچنا چاہتے ہیں تو یہ سرگرمیاں دوبارہ شروع ہونی چاہییں۔

بین الاقوامی ایٹمی توانائی ایجنسی نے حالیہ 12 روزہ جنگ میں صرف نگرانی نہیں بلکہ کچھ ایسے کام کیے جو ایران کے دشمنوں کے مفاد میں تھے۔ اس سے ایران کے حکام اور سیکیورٹی اداروں میں شدید شک پیدا ہوگیا۔ اب جبکہ ایجنسی کے معائنہ کار ایران میں بوشہر ایٹمی بجلی گھر کے ایندھن کی تبدیلی کے لیے پہنچ چکے ہیں، اس سے نئے سوالات اور اسٹریٹجک ابہامات پیدا ہوگئے ہیں۔

ایجنسی کے بعض مغربی ممالک کے ساتھ انٹیلی جنس تعاون اور حساس معلومات جمع کرنے کے کردار کو دیکھتے ہوئے یہ معائنہ کاری صرف تکنیکی اور فنی پہلو تک محدود نہیں سمجھی جاسکتی۔ خدشہ ہے کہ اس کے پیچھے مزید مقاصد بھی ہوسکتے ہیں، جن میں معلومات کے خالی حصوں کو پر کرنا، فنی نگرانی کو آسان بنانا اور ایران کی ایٹمی توانائی کی سلامتی کے خلاف بالواسطہ اقدامات کے لیے سازگار ماحول تیار کرنا شامل ہے۔

ایران اس وقت ایسی صورتحال سے گزر رہا ہے جو ایک نیم جنگی ماحول کی مانند ہے، جہاں فوجی تصادم صرف عارضی طور پر رک گیا ہے، لیکن خطرات اور دباؤ موجود ہیں۔ ایسے حالات میں ضروری ہے کہ متعلقہ حکام تعمیری سفارتی تعلقات قائم رکھتے ہوئے انتہائی ہوشیاری اور حکمت کے ساتھ اس معاملے کا جائزہ لیں اور اسے سنبھالیں، تاکہ کوئی بھی فریق سیاسی، سیکیورٹی یا انٹیلی جنس مفادات کے لیے اس کو استعمال نہ کرے۔

ایک اور اہم بات یہ ہے کہ گروسی نے حالیہ انٹرویوز میں بیک وقت دو واضح مقاصد حاصل کرنے کی کوشش کی ہے۔ پہلا مقصد یہ ہے کہ ایران کے داخلی ماحول میں اختلاف، تفرقہ اور تقسیم پیدا کی جائے تاکہ ملک کے اندر رائے اور پالیسی سازی میں کشیدگی پیدا ہو۔

دوسرا مقصد یہ ہے کہ ایجنسی کی طاقت، اثر و رسوخ اور بین الاقوامی سطح پر اس کی اہمیت کو ظاہر کیا جائے، تاکہ دنیا بھر میں ادارے کی قوت اور کنٹرول کا پیغام پہنچایا جا سکے۔

حالیہ جنگ سے یہ ظاہر ہوگیا ہے کہ ایجنسی، بظاہر غیر جانبدار ہونے کے باوجود، عملی طور پر علاقائی اور بین الاقوامی پیچیدہ معاملات میں ایک طاقتور آلہ بن سکتی ہے۔ لہٰذا اس ادارے کے ساتھ تعاون میں سادہ لوحی یا سست رویہ اپنانا خطرناک ہوسکتا ہے۔ آخرکار، ایران کے لیے دفاعی آمادگی، ہوشیار سفارتکاری اور اسٹریٹجک پالیسی سازی کا امتزاج ہی قومی مفاد اور ایٹمی توانائی کی سلامتی کو بین الاقوامی میدان کی بڑھتی ہوئی پیچیدگیوں سے محفوظ رکھنے کی کلید ہے۔

Scroll to Top