انسداد دہشت گردی عدالت (اے ٹی سی) فیصل آباد نے 9 مئی کو رانا ثنااللہ کے گھر پر حملے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے قومی اسمبلی وسینیٹ کے سابق قائد حزب اختلاف عمر ایوب اور شبلی فراز سمیت 59 ملزمان کو 10، 10 سال قید کی سزا سنادی۔
ڈان نیوز کے مطابق 9 مئی کو فیصل آباد میں وزیراعظم کے مشیر رانا ثنااللہ کے گھر پر حملے کے کیس کی سماعت انسداد دہشت گردی عدالت میں ہوئی۔
اے ٹی سی فیصل آباد نے رانا ثنااللہ کے گھر پر حملے کے کیس کا فیصلہ سناتے ہوئے سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری اور پی ٹی آئی کے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کے صاحبزادے زین قریشی سمیت 34 ملزمان کو بری کردیا۔
عدالت نے قومی اسمبلی اور سینیٹ میں سابق اپوزیشن لیڈر عمر ایوب اور شبلی فراز کے علاوہ سابق وفاقی وزیر زرتاج گل کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی۔
انسداد دہشت گردی عدالت نے مجموعی طور پر 59 پی ٹی آئی رہنماؤں وکارکنوں کو 10،10 سال قید کی سزا سنادی۔
عدالت نے فیصل آباد سے پی ٹی آئی کے رکن صوبائی اسمبلی اسمٰعیل سیلا اور شیخ شاہد جاوید کو بھی 10،10 سال قید کی سزا سنائی۔
سزا پانے والوں میں زرتاج گل، فرح آغا، کنول شوزب، شیخ راشد شفیق، رائے مرتضیٰ، عنصر اقبال، بلال اعجاز، اشرف سوہنا، مہر جاوید اور شکیل نیازی بھی 10،10 سال قید کی سزا پانے والوں میں شامل ہیں۔
خیال رہے کہ 9 مئی 2023 کو سابق وفاقی وزیر رانا ثنااللہ کے گھر پر حملے کا مقدمہ تھانہ سمن آباد میں درج کیا گیا تھا۔
پس منظر
9 مئی 2023 کو القادر ٹرسٹ کیس میں عمران خان کی اسلام آباد ہائی کورٹ کے احاطے سے گرفتار کے بعد پی ٹی آئی کی طرف سے ملک گیر احتجاج کیا گیا تھا۔
اس دوران لاہور کے علاقے ماڈل ٹاؤن میں 9 مئی کو مسلم لیگ (ن) کے دفتر کو جلانے کے علاوہ فوجی، سول اور نجی تنصیبات کو نذر آتش کیا گیا، سرکاری و نجی املاک کو شدید نقصان پہنچایا گیا تھا جب کہ اس دوران کم از کم 8 افراد ہلاک اور 290 زخمی ہوئے تھے۔
مظاہرین نے لاہور میں کور کمانڈر کی رہائش گاہ پر بھی دھاوا بول دیا تھا جسے جناح ہاؤس بھی کہا جاتا ہے اور راولپنڈی میں واقع جنرل ہیڈکوارٹرز (جی ایچ کیو) کا ایک گیٹ بھی توڑ دیا تھا۔
اس کے بعد ملک بھر میں قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ساتھ لڑائی، توڑ پھوڑ اور جلاؤ گھیراؤ میں ملوث 1900 افراد کو گرفتار کر لیا گیا تھا جب کہ عمران خان اور ان کی پارٹی رہنماؤں اور کارکنان کے خلاف مقدمات بھی درج کیے گئے تھے۔