لبنان کے اراکین پارلیمنٹ اور سیاست دانوں کے ایک گروہ نے کل 20 اگست 2025ء کے روز حــ.زب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل شیخ نــ.عیم قا سم کے خلاف عدالت میں مقدمہ دائر کر دیا ہے جس کی وجہ شیخ نــ.عیم قا سم کی جانب سے حـــ.زب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے حکومتی فیصلے کی مخالفت کرنا تھی۔ یاد رہے حـــ.زب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل نے حال ہی میں اپنی تقریر میں لبنان حکومت پر الزام عائد کیا تھا کہ وہ اســـ.رائیل کے سامنے گھٹنے ٹیک چکی ہے۔ لبنان کے ان اراکین پارلیمنٹ اور سیاست دانوں کا یہ اقدام محض ایک عدالتی کاروائی یا حـــ.زب اللہ لبنان کے خلاف ایک سیاسی اقدام نہیں ہے بلکہ قانون کی آڑ میں خانہ جنگی کا زمینہ فراہم کرنا ہے۔ ان افراد نے لبنان کے صدر اور وزیراعظم کی جانب سے حـــ.زب اللہ کو غیر مسلح کرنے کے فیصلے کو قانونی حیثیت عطا کرنے کی کوشش کی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ یہ تمام اقدامات اس امـــ.ریکی صیہونی منصوبے کے تحت انجام پا رہے ہیں جن کا واحد مقصد اس سال کے آخر تک اسلامی مزاحمت کی تنظیم حـــ.زب اللہ لبنان کو غیر مسلح کر لبنان پر اســـ.رائیلی فوجی جارحیت کا راستہ ہموار کرنا ہے۔ حـــ.زب اللہ لبنان کے سیکرٹری جنرل کے خلاف عدالتی کاروائی کا فیصلہ منگل 12 اگست کے دن بیروت کے الاشرفیہ محلے میں موجودہ رکن پارلیمنٹ اور سابقہ وزیر بریگیڈیئر ریٹائرڈ اشرف ریفی کے دفتر میں منعقد ہونے والی ایک میٹنگ میں کیا گیا تھا۔ اس میٹنگ میں شریک افراد نے شیخ نــ.عیم قا سم کی تازہ ترین تقریر کا جائزہ لیا اور ایک بیانیہ جاری کر کے ان پر فرقہ وارانہ اور مذہبی اختلافات کو ہوا دے کر ملک کو خانہ جنگی کے خطرے سے روبرو کرنے کا الزام عائد کیا۔ اسی طرح ان افراد نے عدالت میں ان کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کا فیصلہ بھی کیا۔
اسی طرح ان افراد نے دیگر سیاسی جماعتوں کے اراکین پارلیمنٹ اور رہنماوں سے ملاقاتیں کر کے اسلامی مـــ.زاحمت کے خلاف لابی گری کی بھی کوشش کی ہے۔ یہ سب کچھ ایسے وقت انجام پا رہا ہے جب طائف معاہدے کی روشنی میں حــ.زب اللہ لبنان کا مسلح ہونا اور اس کے ہتھیار مکمل طور پر قانونی اور جائز ہیں۔ طائف معاہدے میں واضح طور پر غاصب صیہو نی رژیم کی جانب سے لبنان پر بار بار کی فوجی جارحیت کا مقابلہ کرنے کے لیے اسلامی مــ.زاحمت کے ہتھیار باقی رہنے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔ لبنان میں جو کچھ ہونے جا رہا ہے وہ جلد از جلد خانہ جنگی شروع کرنے کی کوشش ہے تاکہ سیاسی قوتوں، پارلیمنٹ اور عدلیہ کے باہمی تعاون سے حـــ.زب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے پر مبنی امــ.ریکی صیہونی سازش کو جامہ عمل پہنایا جا سکے۔
یاد رہے یہ منصوبہ لبنان کے لیے امـــ.ریکہ کے خصوصی ایلچی تھامس براک نے پیش کیا تھا اور لبنان حکومت نے شیعہ جماعتوں کی عدم رضایت کے باوجود اس کا اعلان کر دیا ہے۔ تھامس براک نے اس منصوبے کا ایک ایک نسخہ لبنان کی عدلیہ اور پارلیمنٹ کو بھی فراہم کیا ہے۔ لبنان کے اراکین پارلیمنٹ اور سیاست دانوں کے اس گروہ کا اقدام لبنان میں ایک انتہائی خطرناک تبدیلی کا آغاز ہے جس کا مقصد اسلامی مزاحمت کے مسلح ہونے کو غیر قانونی قرار دینا اور اسے ہتھیاروں اور اسلحہ کی فراہمی روکنا ہے۔ یہ کوئی اتفاق نہیں کہ اسلامی مــ.زاحمت کے خلاف اس نئے اقدام کا آغاز بیروت کے محلے الشرفیہ سے ہو رہا ہے کیونکہ خانہ جنگی کی پہلی چنگاری بھی اسی علاقے سے جلائی گئی تھی۔ اب وہی خونی تاریخ دوبارہ دہرائی جا رہی ہے لیکن فرق یہ ہے کہ گذشتہ خانہ جنگی کا مقصد فلــ.سطین کی اسلامی مــ.زاحمت کو غیر مسلح کرنا تھا جبکہ اب اس کا نشانہ لبنان کی اسلامی مــ..زاحمت ہے۔
لبنان میں اس بار بھی فتح اسلامی مــ.زاحمت کو ہی حاصل ہو گی۔ حـــ.زب اللہ لبنان اب تک دو بارہ لبنان کو صیہو نی رژیم کے غاصبانہ قبضے سے آزاد کروا چکی ہے۔ پہلی بار اس نے جنوبی لبنان کو آزاد کروایا تھا اور دوسری بار 2006ء میں صیہونی فوجی جارحیت کا کامیابی سے مقابلہ کیا تھا۔ جو عناصر حـــ.زب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے اور ملک میں خانہ جنگی شروع کروانے کی کوشش میں مصروف ہیں وہ ملک کی تاریخ میں حــ.زب اللہ لبنان کی ان دو عظیم کامیابیوں کو بھلا چکے ہیں اور اس حقیقت سے بھی غافل ہیں کہ اسلامی مـــ.زاحمت کے ہتھیار کبھی بھی اپنی قوم اور عوام کے خلاف نہیں اٹھے بلکہ انہوں نے ہمیشہ دشمن کو نشانہ بنایا ہے اور لبنان کا دفاع کیا ہے۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ بھول چکے ہیں کہ یہ حـــ.زب اللہ لبنان اور امل کے اراکین پارلیمنٹ ہی تھے جنہوں نے موجودہ صدر جوزف عون کو صدر کے عہدے پر فائز کیا تھا۔
حـــ.زب اللہ لبنان اور دوسری شیعہ لبنانی جماعت امل نے ایسے وقت جوزف عون کی حمایت کی تھی جب گذشتہ دو برس سے لبنان کے صدر کا عہدہ خالی پڑا تھا اور لبنان طاقت کے خلا اور سیاسی بحران کا شکار تھا۔ اسی طرح ان شیعہ جماعتوں نے ہی وزیراعظم نواف سلام کی کابینہ کو اعتماد کا ووٹ دیا اور موجودہ حکومت تشکیل پانے میں بنیادی کردار ادا کیا تھا۔ یہی حکومت جو حـــ.زب اللہ کو غیر مسلح کرنے کی سرتوڑ کوششیں انجام دے رہی ہے۔ وہ آوازیں جو آج شیخ نــ.عیم قا سم کے خلاف اٹھ رہی ہیں اور حزب اللہ لبنان کو غیر مسلح کرنے کے لیے قانونی اور سیاسی مقدمات فراہم کرنے پر تلی ہوئی ہیں نہ تو پہلی خانہ جنگی میں کامیاب ہوئی تھیں اور نہ ہی آج کامیاب ہوں گی کیونکہ جیسا کہ شیخ نــ.عیم قا سم نے اپنی تقریر میں اس بات پر زور دیا ہے کہ عنقریب “کربلائی معرکہ” رونما ہونے والا ہے۔ یعنی یا فتح یا شہادت۔
تحریر: عبدالباری عطوان (چیف ایڈیٹر رای الیوم)