اقوام متحدہ میں ایران کے مستقل مندوب امیر سعید ایروانی نے سلامتی کونسل کے اجلاس میں خطاب کرتے ہوئے کہا کہ شام میں انسانی حقوق کی صورتحال اب بھی بدترین ہے۔ اقوام متحدہ کے ادارے مشکل حالات میں بھی شامی عوام کو امداد فراہم کر رہے ہیں۔ انسانی امداد کی فراہمی کا یہ عمل انسانیت، غیرجانبداری اور آزادی کے اصولوں کے عین مطابق ہونا چاہیے۔
انہوں نے یکطرفہ اور غیرقانونی پابندیوں کو ختم کرنے پر زور دیا جو شامی عوام کے لیے مشکلات بڑھا رہی ہیں، تعمیرِ نو کے عمل کو روک رہی ہیں اور اقتصادی بحالی میں رکاوٹ ڈال رہی ہیں۔ ان پابندیوں کا خاتمہ پناہ گزینوں اور بے گھر افراد کی باعزت واپسی کے لیے ضروری ہے۔
انہوں نے خاص طور پر شام کے شہر سویدا کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ وہاں کی صورتحال اب بھی نازک ہے۔ اگرچہ عارضی جنگ بندی سے وقتی سکون ہوا ہے، مگر جھڑپیں جاری ہیں اور دوبارہ پرتشدد واقعات کے خدشات برقرار ہیں۔ تقریباً دو لاکھ شہری بے گھر اور بنیادی سہولتوں تک رسائی محدود ہوچکی ہے جو کہ نہایت تشویشناک ہے۔
انہوں نے اس بات کا خیر مقدم کیا کہ سلامتی کونسل کے بیان میں ان مظالم کی مذمت کی گئی اور تحقیقات کا مطالبہ کیا گیا، لیکن انہوں نے زور دیا کہ لاذقیہ اور طرطوس میں علوی برادری کے خلاف ہونے والے جرائم کے ذمہ داروں کو فوری، شفاف اور غیرجانبدارانہ طور پر انصاف کے کٹہرے میں لایا جائے۔
ایرانی سفیر نے شمال مشرقی شام میں جاری کشیدگی پر بھی تشویش ظاہر کی اور کہا کہ دونوں فریقوں کے درمیان سیاسی مکالمے کو فروغ دینا ناگزیر ہے تاکہ صورتحال مزید نہ بگڑے اور بامقصد گفت و شنید کے راستے کھل سکیں۔
ایروانی نے زور دیا کہ سلامتی کونسل کو اسرائیل کے تخریبی اقدامات پر خاموش نہیں رہنا چاہیے۔ اسرائیلی جارحانہ حملوں کے نتیجے میں عام شہری ہلاک ہو رہے ہیں، اہم بنیادی ڈھانچے تباہ ہو رہے ہیں اور کشیدگی میں اضافہ ہورہا ہے۔ ایران شام کی خودمختاری، آبادی کے ڈھانچے میں تبدیلی یا اس کے علاقوں کی تقسیم کے کسی بھی اقدام کو سختی سے مسترد کرتا ہے۔
ایرانی مندوب نے افسوس ظاہر کیا کہ حالیہ سلامتی کونسل کے اعلامیے میں اسرائیل کی خلاف ورزیوں کا کوئی ذکر نہیں کیا گیا۔ اسرائیل کی جانب سے شام کے گولان کی پہاڑیوں پر قبضہ بین الاقوامی قوانین، اقوام متحدہ کے منشور اور 1974 کے معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور اس غیرقانونی قبضے کو فوری طور پر ختم ہونا چاہیے۔