سعودی عرب اور عرب امارات یمن سے جنگ کی صلاحیت نہیں رکھتے، برطانوی رپورٹ

برطانیہ کی تحقیقاتی کمپنی وریسک ماپل کرافٹ نے اپنی تازہ رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ یمنی افواج کی بڑھتی ہوئی عسکری صلاحیت نے خطے میں طاقت کا توازن یکسر بدل ڈالا ہے۔ رپورٹ کے مطابق، یمن کی دفاعی قوت نے سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کو براہ راست جنگ میں اترنے سے روک دیا ہے اور یہ دونوں ممالک اب یمن کے ساتھ کسی نئے فوجی تصادم کی ہمت نہیں رکھتے۔

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ اگرچہ غزہ میں ممکنہ جنگ بندی خطے کی مجموعی کشیدگی کو کم کرسکتی ہے، تاہم یمن کی عسکری کامیابیاں ایسی حقیقت ہیں جو خلیجی ریاستوں کو مسلسل محتاط رکھے ہوئے ہیں۔ یمنی فورسز کی کامیاب کارروائیوں نے نہ صرف ریاض اور ابوظہبی میں خوف کی فضا پیدا کر دی ہے بلکہ امریکہ جیسے طاقتور ملک کو بھی دفاعی پوزیشن اختیار کرنے پر مجبور کر دیا ہے۔

چند روز قبل ایک امریکی عہدیدار نے کہا کہ صنعاء کے بجلی گھر پر صہیونی حملے میں شریک ہونے کا تاثر مسترد کردیا تھا۔

امریکی جریدے المانیٹر کو انٹرویو دیتے ہوئے اس نے کہا کہ پینٹاگون نے اس کارروائی کے دوران تل ابیب کو نہ کوئی انٹیلی جنس فراہم کی اور نہ ہی لاجسٹک مدد دی۔

Scroll to Top