صہیونی فوج میں نفسیاتی دباؤ کا رجحان سنگین رخ اختیار کرگیا، ایک مہینے میں سات اہلکاروں کی خودکشی

غزہ میں انسانیت سوز جرائم میں مرتکب صہیونی فوجی اہلکاروں میں خودکشی کا رجحان شدت اختیار کرتا جا رہا ہے۔

عبرانی ذرائع ابلاغ نے انکشاف کیا ہے کہ صرف جولائی کے مہینے میں سات صہیونی اہلکاروں نے خودکشی کی، جن میں حالیہ کیس ایک ایسے ریزرو فوجی کا ہے جس نے تین سو دن سے زائد محاذ پر خدمات انجام دینے کے بعد خودکشی کرلی۔

عبرانی روزنامہ ہارٹز اور فوجی ریڈیو کی رپورٹس کے مطابق، نیا واقعہ اس بڑھتے ہوئے رجحان کا حصہ ہے جو 7 اکتوبر کو غزہ پر حملے کے بعد سے مسلسل صہیونی فوج میں دیکھنے کو مل رہا ہے۔ تل ابیب یونیورسٹی اور صہیونی فوج کے اشتراک سے کی گئی ایک تحقیق کے مطابق، جنگ کے بعد 12 فیصد اہلکار شدید ذہنی دباؤ کا شکار ہوچکے ہیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ فی الحال 15 ہزار صہیونی اہلکار نفسیاتی نگرانی میں ہیں، جن میں سے کم از کم 35 فیصد کو شدید ذہنی مسائل کا سامنا ہے۔ اگرچہ صہیونی فوج اور میڈیا پر سخت سنسرشپ نافذ ہے، جس کی وجہ سے اصل اعداد و شمار چھپائے جاتے ہیں، تاہم فوج نے خود اعتراف کیا ہے کہ جنگ غزہ کے آغاز سے اب تک کم از کم 43 اہلکار خودکشی کرچکے ہیں۔

ایک عبرانی ویب سائٹ نے رپورٹ میں اعتراف کیا ہے کہ ہماری جنگ کی قیمت صرف میدان جنگ میں مارے جانے والے فوجی نہیں بلکہ وہ اہلکار بھی ہیں جو محاذ سے واپسی کے بعد نفسیاتی اذیت کے باعث خودکشی کر لیتے ہیں۔

رپورٹ سے صہیونی معاشرے میں ایک اہم سوال اٹھا ہے کہ ایسی جنگ جس کا ابھی کوئی واضح انجام نہیں، اس کی انسانی قیمت کیا ہے؟ اور کیا ان اہلکاروں کی نفسیاتی بحالی کے لیے فوج کے پاس کوئی حکمت عملی ہے یا نہیں؟

Scroll to Top