ایران اور پاکستان کے وزرائے خارجہ نے ٹیلیفونک گفتگو میں غزہ میں جاری صہیونی مظالم اور انسانیت سوز جرائم پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے جارحیت کے فوری خاتمے کی ضرورت پر زور دیا۔
تفصیلات کے مطابق، ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی اور ان کے پاکستانی ہم منصب محمد اسحاق ڈار نے اس گفتگو میں صہیونی حکومت کی جانب سے غزہ پر جاری حملوں، محاصرے اور فلسطینی عوام کی نسل کشی پر شدید تشویش کا اظہار کیا۔
عباس عراقچی نے گفتگو کے دوران غزہ کے محاصرے اور صہیونی حکومت کی تباہ کن جارحیت کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ بین الاقوامی اور علاقائی اداروں خصوصا او آئی سی کو متحرک کرنا ضروری ہے تاکہ غزہ کے مظلوم عوام کو انسانی امداد پہنچائی جاسکے اور صہیونی مظالم کو روکا جاسکے۔
انہوں نے صہیونی پارلیمنٹ کے اس حالیہ اقدام کی بھی مذمت کی جس کے تحت مغربی کنارے پر قبضے کی منظوری دی گئی ہے۔ عراقچی کے مطابق، یہ اقدام ایک طویل المیعاد صہیونی منصوبے کا حصہ ہے جس کا مقصد فلسطینی شناخت کو مکمل طور پر مٹانا ہے۔
انہوں نے خبردار کیا کہ اسلامی ممالک کو ایسے خطرناک منصوبوں کے مقابلے میں خاموش نہیں رہنا چاہیے۔
اس موقع پر پاکستانی وزیر خارجہ اسحاق ڈار نے بھی غزہ کی بدترین انسانی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے یقین دلایا کہ پاکستان، اسلامی جمہوریہ ایران اور دیگر اسلامی ممالک کے ساتھ مل کر انسانی امداد کی فراہمی اور سیاسی حل کی حمایت میں سرگرم کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دونوں وزرائے خارجہ نے اسلامی ممالک کے درمیان تعاون کو مضبوط بنانے اور صہیونی جارحیت کے خلاف مشترکہ اور منظم حکمت عملی کی ضرورت پر بھی زور دیا۔