عبرانی روزنامہ ہاآرٹز نے کہا ہے کہ تل ابیب نے پہلی بار حماس کے ساتھ غزہ کی جنگ ختم کرنے کے بارے میں براہ راست مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔
ذرائع کے مطابق، اس بار ہونے والی بات چیت پچھلے ادوار سے مختلف ہے کیونکہ اس کا محور جنگ بندی اور مستقل حل کی طرف پیش رفت ہے۔ مزید یہ کہ صہیونی وفد کو اس مرتبہ کافی وسیع اختیارات دیے گئے ہیں تاکہ ایک قابل قبول معاہدے تک پہنچا جا سکے۔
ذرائع نے کہا کہ دوحہ میں جاری مذاکرات کئی پیچیدہ موضوعات کی وجہ سے آسان نہیں ہیں، تاہم صہیونی وفد کا قطر میں موجود رہنا اس بات کا مثبت اشارہ ہے کہ کسی معاہدے کی امید کی جاسکتی ہے۔
اسی سلسلے میں عبرانی اخبار یدیعوت آحارونوت نے بھی گزشتہ شب اپنی رپورٹ میں ذمہ دار ذرائع کے حوالے سے بتایا کہ آنے والے دو ہفتوں کے اندر غزہ کے حوالے سے کسی معاہدے تک پہنچنا ممکن دکھائی دیتا ہے۔