دمشق پر اسرائیل کے حملے اور شام کو تقسیم کرنے کی پس پردہ سازشیں

صہیونی حکومت کی جانب سے شام پر حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملک پر پہلے ہی اسرائیل نواز جولانی حکومت قابض ہے۔ مبصرین کے مطابق یہ حملے کسی فوری خطرے یا دفاعی اقدام کے بجائے شام کو اندرونی طور پر کمزور اور جغرافیائی طور پر منقسم کرنے کی طویل المیعاد صہیونی حکمت عملی کا حصہ ہیں۔

گزشتہ دنوں اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے دمشق میں شامی وزارت دفاع اور جنرل اسٹاف ہیڈکوارٹر سمیت کئی اہم فوجی تنصیبات کو نشانہ بنایا۔ ان حملوں میں شامی فضائیہ، بحریہ، میزائل ڈیپو اور دفاعی مراکز کو شدید نقصان پہنچا۔ اس کے علاوہ لاذقیہ سمیت دیگر ساحلی اور شمالی صوبے بھی ان حملوں کی زد میں آئے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے یہ حملے شام میں اسد حکومت کے خاتمے کے بعد بھی ختم نہیں ہوئے۔ اس کے پیچھے بڑا مقصد مقاومتی محاذ کی اس جغرافیائی زنجیر کو توڑنا ہے، جس کے ذریعے ایران، عراق، شام اور لبنان ایک دوسرے سے رابطہ برقرار کرتے تھے۔

اب جبکہ جولانی حکومت نے شام کی پالیسیوں کو مزاحمتی محاذ سے ہٹانے کی کوشش کی ہے اسرائیل کو امید ہے کہ وہ حزب اللہ کے گرد محاصرے کا دائرہ مکمل کرسکے گا۔ بعض تجزیہ کار اسے 1974 کے فائر بندی معاہدے کی کھلی خلاف ورزی اور شام کی خودمختاری پر ایک مسلسل حملہ قرار دے رہے ہیں۔

ایک متحد، خودمختار اور مزاحمتی شام تل ابیب کے لیے ناقابل قبول ہے۔ یہی وجہ ہے کہ حملے رکنے کا نام نہیں لے رہے، بلکہ اب ان کا مقصد نہ صرف فوجی طاقت کا خاتمہ بلکہ شام کی وحدت کو بھی پارہ پارہ کرنا ہے۔

شام پر اسرائیلی جارحیت میں تیزی نے مشرق وسطی میں ایک نئے خطرناک منصوبے کو بے نقاب کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق، تل ابیب نہ صرف شام کی فوجی طاقت کو تباہ کر رہا ہے بلکہ اس کی جغرافیائی وحدت کو بھی نشانہ بنا رہا ہے۔

سیاسی و عسکری ماہرین کا کہنا ہے کہ جولانی کی زیر قیادت شام کی موجودہ حکومت محض ایک اسرائیل نواز کٹھ پتلی ہے جو ملک کے اندرونی و بیرونی تحفظ میں مکمل ناکام ہوچکی ہے۔ یہی کمزوری اسرائیل کو کھلی چھوٹ دے رہی ہے کہ وہ شام میں اپنی مرضی کے مطابق جارحیت کرے اور تقسیم کی راہ ہموار کرے۔

تل ابیب کا ہدف نہ صرف فوجی صلاحیت کا خاتمہ ہے بلکہ وہ شام میں ایک طاقتور مرکزی حکومت کے قیام کو بھی روکنا چاہتا ہے۔ صہیونی حکومت یہ نہیں چاہتی کہ اس کی شمالی سرحد پر کوئی مضبوط ہمسایہ وجود میں آئے۔ اسی لیے وہ کرد اور دروزی اقلیتوں کو ہتھیار بنا کر شام کے شمال مشرقی اور جنوبی علاقوں کو علیحدہ کرنے کی کوشش میں ہے۔

وزیر خارجہ سابق اسرائیل گدعون ساعر، پہلے ہی دروزی اور کرد گروہوں کی علانیہ حمایت کا اعلان کرچکے ہیں۔ اب یہ بیانات عملی شکل اختیار کر رہے ہیں، جس سے خدشہ ہے کہ شام کو نسلی بنیادوں پر تقسیم کی راہ پر ڈالا جا رہا ہے۔ تل ابیب کردوں کی مدد سے ترکی کے اثر و رسوخ کو شمال مشرقی شام میں محدود کرنا چاہتا ہے جبکہ دروزی اقلیت کو بھڑکا کر السویدا اور قنیطرہ جیسے علاقوں کو مرکزی دمشق حکومت سے الگ کرنا اس کی ایک اور چال ہے۔

دوسری جانب دہشت گرد تنظیم تحریر الشام کے سربراہ ابومحمد الجولانی ل اسرائیل سے کسی بھی قسم کی دشمنی سے انکار کر چکا ہے، جس سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ موجودہ شام حکومت کس حد تک اسرائیل کے لیے سہولت کار بن چکی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ اسرائیل، جولانی کی بے بسی اور بین الاقوامی خاموشی کو غنیمت جان کر شام کو تقسیم کرنے کے اپنے منصوبے پر تیزی سے عمل پیرا ہے۔ مستقبل میں یہ اقدام نہ صرف شام بلکہ پورے خطے کے لیے خطرے کی گھنٹی ثابت ہوسکتا ہے۔

Scroll to Top