شام کے حالیہ واقعات سے یہ نتیجہ سامنے آتا ہے کہ شام پر قابض تکفیری گروہ کے سرغنہ جولانی نے صیہونی سیاسی اور سیکیورٹی افسران کے ساتھ ابوظہبی اور باکو میں متعدد ملاقاتوں، واشنگٹن کی دمشق اور تل ابیب کے درمیان تعلقات کی معمول سازی کی کوششوں، اور ستمبر میں نیتن یاہو سے ملاقات کے بعد یہ تصور کرلیا تھا کہ وہ امریکہ کی جانب سے شام کو خطے میں مزاحمتی محاذ کے خلاف منصوبے میں مرکزی کردار دینے کے لیے بعض مثبت اشاروں کی بنیاد پر اپنے اور اپنی حکومت کے لیے ایک محفوظ پناہ گاہ بنا سکتا ہے۔
تاہم، ایک بار پھر خطے میں سب کے لیے یہ ثابت ہو گیا کہ غاصب ریاست کے سامنے کسی قسم کی بھی تعلقات کی معمول سازی، یا امریکہ اور اسرائیل سے مذاکرات، تجاوز کے زریعے ختم کرنے جیسے طریقوں سے محفوظ نہیں ہے۔
یہ سب سے بڑا سبق ہے جس پر خاص طور پر عراق اور لبنان میں ہر سطح پر توجہ دینے کی ضرورت ہے، جہاں مزاحمت کے مخالفین یہ پروپیگنڈہ کر رہے ہیں کہ آج لبنان پر جاتی صہیونی حملے حزب اللہ کے ہتھیاروں کی وجہ سے ہیں! لہٰذا، اگر ہتھیار ختم کر دیے جائیں تو یہ حملے بھی رک جائیں گے۔
عراق میں بھی یہی کہا جا رہا ہے کہ مزاحمتی گروہوں اور حشد الشعبی کے ہتھیار عراق کو تصادم کے میدان میں کھینچنے کا خطرہ بڑھاتے ہیں، اس لیے ان گروہوں کو غیرمسلح کرنا چاہیے اور حشد کو تحلیل یا ضم کر دینا چاہیے۔
یہ ماجرا ظاہر کرتا ہے کہ شام کو ایک ایسے ملک کے طور پر دیکھا جارہا ہے جسے ہتھیار ڈالنے چاہئیں، لہٰذا معاہدے وغیرہ کا کوئی فائدہ نہیں ہے اور تل ابیب صرف مکمل ہتھیار ڈالنے کی یقین دہانی چاہتا ہے۔
ایڈیٹوریل
ڈاکٹر ابوالفضل رضوی