ایرانی وزیر خارجہ نے شنگھائی تعاون تنظیم کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں ایران کی ترجیحات اور تجاویز پیش کرتے ہوئے کہا کہ دنیا جس پیچیدہ صورت حال کا سامنا کر رہی ہے اس کے پیش نظر شنگھائی تنظیم کو زیادہ فعال، خود مختار اور منظم موقف اختیار کرنا چاہیے اور نہ صرف رکن ممالک کے مفادات کا تحفظ کرنا چاہیے بلکہ خطے میں توازن اور ذمہ دارانہ نظام کا ایک نمونہ بھی ہونا چاہیے۔
ایران کے وزیر خارجہ سید عباس عراقچی نے شنگھائی تعاون تنظیم (SCO) کے وزرائے خارجہ کی کونسل کے اجلاس میں ایران پر صیہونی حکومت اور امریکہ کے حملے اور اس کے نتائج کی تفصیلات بیان کیں اور تنظیم کے رکن ممالک سے درخوست کی کہ وہ ان اقدامات کے مقابلے میں زیادہ ذمہ داری سے کام لیں۔

انہوں نے اپنی تقریر میں کہا کہ ایران کی پرامن جوہری تنصیبات کے خلاف امریکہ اور اسرائیل کے حملے جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے (NPT)، بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی متعدد قراردادوں، اور اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد 487 کی صریح خلاف ورزی تھے۔ کوئی بھی قانون اس بات کی اجازت نہیں دیتا کہ حفاظتی اقدامات کے نام پر یا صرف سیاسی قیاس آرائیوں کی بنیاد پر پرامن جوہری تنصیبات کو حملے کا نشانہ بنایا جائے۔ ایران کے خلاف اسرائیلی حکومت کی جارحیت اقوام متحدہ کے چارٹر کے آرٹیکل 2، پیراگراف 4 کی صریح خلاف ورزی اور جارحانہ کارروائی تھی۔

انہوں نے کہا کہ آج ہمیں ایک پیچیدہ رجحان کا سامنا ہے: ریاستی دہشت گردی، انتہا پسندی، میڈیا وارفیئر، اقتصادی پابندیاں اور سائبر خطرات – یہ سب قومی آزادی کو نقصان پہنچانے، خود مختار قوموں کی مرضی کو پامال کرنے، اور ملکوں کے وسائل اور تقدیر پر غلبہ پانے کے منصوبہ بند سازشیں ہیں۔ ایسی حقیقتوں کا سامنا کرتے ہوئے، SCO کو ان خطرات کا مقابلہ کرنے کے لیے زیادہ فعال، خودمختار اور منظم موقف اپنانا چاہیے۔

عراقچی نے تاکید کی کہ اپنی وسیع جغرافیائی، اقتصادی اور انسانی صلاحیت کے ساتھ، SCO ابھرتے ہوئے خطرات، خاص طور پر ریاستی دہشت گردی، فوجی جارحیت، سائبر جنگ اور یکطرفہ پابندیوں کا مقابلہ کرنے میں مرکزی کردار ادا کر سکتا ہے اور ایسا کرنا وقت کی ضرورت ہے۔