شہید رہبرؒ کی تشییع امت اسلامی کے اتحاد اور وفاداری کی علامت تھی، ایرانی صدر

شہید رہبر

ایرانی صدر مسعود پزشکیان نے شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ایؒ کی جنازہ تقریبات میں عوام کی “تاریخی موجودگی” اور “عالمی ہم آہنگی” پر گہرا شکریہ ادا کیا ہے۔

انہوں نے ایرانی قوم، مسلم اقوام اور دنیا بھر کے آزادی پسند لوگوں سے خطاب کرتے ہوئے تہران، قم، مشهد، نجف اور کربلا میں لاکھوں کی تعداد میں ہونے والے اجتماعات کو وفاداری، قومی یکجہتی اور اسلامی اتحاد کا شاندار مظاہرہ قرار دیا۔

یہ بھی پڑھیں : خوزستان میں امریکی حملے میں تین بہادر ایرانی مدافعین وطن شہید

صدر پزشکیان نے کہا کہ “عوام کی شاندار اور لاکھوں کی تعداد میں موجودگی الوداعی اور عزاداری کی تقریبات میں… ایرانی قوم کی عقیدت کی دائمی علامت اور عزت، آزادی، انصاف اور ترقی کے اصولوں سے عہد تازہ کرنے کی مثال ہے۔”

شہید رہبر کی شہادت 28 فروری کو امریکہ اسرائیل کے حملے میں ہوئی تھی۔ چند روزہ جنازہ مراسم میں ایران اور عراق کے مقدس مقامات پر بے مثال ہجوم دیکھا گیا۔

صدر نے کہا کہ یہ تاریخی شرکت ایک سادہ الوداع سے کہیں زیادہ تھی۔ یہ اسلامی انقلاب کے راستے کی اجتماعی تجدید عہد تھی جس میں عوام، علماء، سیکورٹی اہلکار اور میڈیا سب نے غم اور عزم کے ساتھ شرکت کی۔

عالمی سطح پر بھی تعزیت کے پیغامات، یادگار تقریبات اور شرکت نے شہید رہبر کے روحانی اور سیاسی اثر کو ظاہر کیا۔ عراقی حکومت اور عوام کی طرف سے نجف و کربلا میں گرمجوش میزبانی نے دونوں ممالک کے بھائی چارے کو مزید نمایاں کیا۔

صدر پزشکیان نے ایرانی قوم، یکجہتی کا اظہار کرنے والے ممالک، علماء، سیکورٹی فورسز اور میڈیا کا خصوصی شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے قومی اتحاد برقرار رکھنے، عوام کی خدمت کرنے اور شہید رہبر کے راستے پر ثابت قدم رہنے کی تلقین کی۔

Scroll to Top