غزہ کے ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کی زندگی خطرے میں، اسرائیلی حراست میں تشدد کا نیا انکشاف

حسام ابو صفیہ

ایک بین الاقوامی انسانی حقوق کی تنظیم نے خبردار کیا ہے کہ غزہ کے کمال ادوان ہسپتال کے ڈائریکٹر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ، جو 2024 سے اسرائیلی حراست میں ہیں، ان کی زندگی کو سنگین خطرہ لاحق ہے۔

فزیشنز فار ہیومن رائٹس نے ہفتہ کے روز بتایا کہ ان کے وکیل ناصر عودہ نے 2 جولائی کو نتزان جیل کی راکفت ڈٹینشن سنٹر میں ابو صفیہ سے ملاقات کے دوران ان کے جسم پر شدید چوٹیں، تشدد کے نشانات، سانس لینے میں دشواری اور بار بار بے ہوش ہونے کے واقعات دیکھے۔

یہ بھی پڑھیں : قم میں شہید رہبرؒ کی تشییع: آیت اللہ جوادی آملی امامت کریں گے

ملاقات کے دوران ابو صفیہ کو ہاتھ پاؤں جکڑ کر لایا گیا تھا اور ان کے ساتھ ماسک لگائے جیل کے محافظ تھے۔ ان کے سر، آنکھوں، کانوں اور گردن کے گرد نئی چوٹیں اور بڑے نیل پڑے ہوئے تھے۔ وکیل نے بتایا کہ ان کی حالت اتنی خراب ہو چکی ہے کہ پہچاننا مشکل ہو گیا تھا۔

تنظیم نے ڈاکٹر ابو صفیہ اور دیگر اغوا شدہ طبی عملے کی فوری رہائی کا مطالبہ کیا ہے جو اسرائیلی فورسز نے بغیر کسی الزام یا مقدمے کے حراست میں رکھا ہوا ہے۔

تنظیم کے قیدیوں اور نظربندوں کے شعبے کے سربراہ ناجی عباس نے کہا کہ تازہ رپورٹس سے ابو صفیہ کی جان کے بارے میں شدید تشویش پیدا ہوئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ وکیل کی شہادت اس سے زیادہ تکلیف دہ تھی جتنی غزہ میں نسل کشی شروع ہونے کے بعد ملی ہے۔ ابو صفیہ نے حراست میں اپنی جان کا خوف ظاہر کیا۔

ان کا صحت بگڑنے کا سلسلہ عدالت میں حراست کے خلاف چیلنج کرنے کے بعد مزید خراب ہوا۔ انہوں نے فوری اور غیر جانبدار تحقیقات کا مطالبہ کیا اور کہا کہ اسرائیلی حکام تمام قیدیوں کی صحت، سلامتی اور فلاح و بہبود کے ذمہ دار ہیں۔

واضح رہے کہ اسرائیلی فوج نے 27 دسمبر 2024 کو کمال ادوان ہسپتال پر چھاپہ مار کر ڈاکٹر حسام ابو صفیہ کو اغوا کیا تھا۔ ان پر پہلے بھی اسرائیلی حملے میں زخمی ہونے کے باوجود وہ ہسپتال میں رہے اور مریضوں کا علاج کرتے رہے۔

غزہ کی وزارت صحت کے مطابق اکتوبر 2023 سے اسرائیلی جنگ میں 73,090 افراد شہید اور 173,553 زخمی ہو چکے ہیں۔

Scroll to Top