دنیا بھر کے رہنما اور عوام کا شہید رہبر کو خراجِ عقیدت، سوشل میڈیا پر جذباتی سیلاب

سوشل میڈیا پر خراج عقیدت کا طوفان

شہید رہبر انقلاب اسلامی حضرت آیت اللہ سید علی خامنہ ای کے تاریخی الوداعی مراسم سے پہلے دنیا بھر کے سیاسی کارکنوں، صحافیوں اور اعلیٰ حکام نے سوشل میڈیا پر ان کے ورثے پر جذباتی تبصرے کیے ہیں۔

جمعہ کے روز یہ ردعمل سامنے آیا جب تہران 4 اور 5 جولائی کو بڑے پیمانے پر مراسم کی تیاری کر رہا تھا۔ لاکھوں غم زدہ لوگوں کے ساتھ متعدد غیر ملکی معززین بھی شریک ہیں۔

امریکی مصنف اور کارکن شون کنگ نے X پر لکھا: “مجھے امید تھی کہ ایک دن ان سے ملاقات ہو جائے گی۔ ایک مکمل زندگی آخری لمحے تک… انسانوں سے بالکل بے خوف… اپنے لوگوں اور ملک کے محافظ… انہوں نے امت مسلمہ کو فخر بخشا اور ان کا نقصان گہرا محسوس ہو رہا ہے۔”

یہ بھی پڑھیں : شہید رہبرؒ کے جنازہ میں ایشیا، افریقہ، یورپ اور امریکہ کے وفود

روس کے سابق صدر اور موجودہ نائب چیئرمین سلامتی کونسل دمتری میدویدیف نے روسی قیادت اور عوام کی طرف سے گہری تعزیت کا اظہار کیا اور کہا کہ “ہم ایرانی عوام کے ساتھ اس ناقابلِ تلافی نقصان پر ماتم کر رہے ہیں۔”

عراقی کردستان کے صدر نچیروان بارزانی نے فارسی میں لکھا کہ شہید رہبر کی میت کی تعزیت کے موقع پر ان کی حکیمانہ رہنمائی اور تاریخی کردار ہمیشہ یاد رکھا جائے گا۔

بھارتی کشمیر کی پیپلز ڈیموکریٹک پارٹی کی صدر محبوبہ مفتی نے تہران پہنچ کر تعزیت اور یکجہتی کا اظہار کرتے ہوئے آیت اللہ خامنہ ای کو “ظالموں کے سامنے کھڑے ہونے والا عظیم رہنما” قرار دیا۔

فلسطینی کارکن تغرید المعوید نے کہا کہ شہید رہبر نے بغیر کسی شرط کے فلسطین اور لبنان کے لوگوں کا ساتھ دیا جبکہ کچھ سنی عرب رہنما پیچھے رہے۔

برطانوی صحافی بشرٰی شیخ نے شہید رہبر کے اس قول کا حوالہ دیا کہ “میں یزید جیسے شخص سے بیعت نہیں کروں گا” اور لکھا کہ یہ الفاظ مزاحمت اور ظالموں کے خلاف بغاوت کا پیغام ہیں۔

امریکی صحافی ایتھن لیونز نے لکھا کہ “حقیقتاً پوری دنیا تہران میں ہے۔ تمام براعظموں اور تمام مذاہب کے لوگ امریکی سامراجیت کے خلاف متحد ہیں۔”

امریکی کارکن نیکو ہاؤس نے شہید رہبر کے جنازہ کی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے کہا کہ “انہیں لگتا تھا کہ یہ لوگ اپنی حکومت کے خلاف ہوں گے… لیکن حقیقت اس کے بالکل برعکس ہے۔”

شہید آیت اللہ سید علی خامنہ ای 28 فروری کو امریکہ اور اسرائیل کی جارحیت کے پہلے روز شہید ہوئے تھے۔ ایران نے جواب میں 100 سے زائد کامیاب جوابی حملے کیے جس کے بعد امریکہ نے 7 اپریل کو یک طرفہ سیز فائر کا اعلان کیا۔

Scroll to Top