بھارت میں نوجوانوں کی بے چینی اور سیاسی ناراضی ایک نئے انداز میں سامنے آئی ہے، جہاں ایک آن لائن تحریک کاکروچ جنتا پارٹی نے سوشل میڈیا پر تیزی سے مقبولیت حاصل کر لی ہے۔
رپورٹ کے مطابق یہ تحریک بھارت میں نوجوانوں کی بے روزگاری، امتحانی پیپر لیکس اور مہنگائی جیسے مسائل کو اجاگر کر رہی ہے اور مختصر وقت میں لاکھوں فالوورز حاصل کر چکی ہے۔
تحریک کے بانی ابھیجیت ڈیپک ہیں، جنہوں نے سوشل میڈیا پر طنزیہ انداز میں شروع ہونے والے ایک پیغام کو ایک بڑے آن لائن موومنٹ میں تبدیل کر دیا۔
رپورٹ کے مطابق اس گروپ نے چند دنوں میں انسٹاگرام پر 20 ملین سے زائد فالوورز حاصل کیے، تاہم اب اسے آف لائن تنظیمی ڈھانچے، فنڈنگ اور سیاسی دباؤ جیسے چیلنجز کا سامنا ہے۔
بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حکومت کے ناقدین کے مطابق یہ رجحان نوجوانوں میں بڑھتی ہوئی بے چینی کی علامت ہے، تاہم حکومتی وزراء نے اس تحریک کو محض سوشل میڈیا کا شور قرار دیا ہے۔
رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ تحریک کو آن لائن بلاکس، اکاؤنٹس ہیک ہونے اور دھمکیوں کا سامنا ہے، جبکہ اس کے بانی کا کہنا ہے کہ یہ نوجوان نسل کی حقیقی مایوسی کی آواز ہے۔
ماہرین کے مطابق اگر یہ تحریک سڑکوں پر منظم نہ ہو سکی تو یہ محض ایک ڈیجیٹل ٹرینڈ بن کر رہ سکتی ہے، تاہم اس کی موجودہ مقبولیت نے بھارتی سیاست میں ایک نئی بحث ضرور چھیڑ دی ہے۔