روس سے کیوبا جانے والے فیول ٹینکر نے اچانک راستہ بدل لیا

روس سے روانہ ہونے والا ایک فیول ٹینکر، جو ابتدائی طور پر کیوبا کے لیے روانہ کیا گیا تھا، اچانک اپنا راستہ تبدیل کر گیا ہے، جس کے بعد عالمی توانائی مارکیٹ اور شپنگ روٹس میں نئی بحث شروع ہوگئی ہے۔

بین الاقوامی خبر رساں ادارے  کے مطابق ایل ایس ای جی (LSEG) کے شپ ٹریکنگ ڈیٹا میں ظاہر ہوا ہے کہ   ٹینکر تقریباً 3 لاکھ بیرل فیول لے کر روانہ ہوا تھا، جو ابتدا میں کیریبین جزائر میں واقع کیوبا کی جانب جا رہا تھا، تاہم بعد ازاں اس نے اپنا رخ تبدیل کر لیا۔

رپورٹ کے مطابق یہ ٹینکر روسی بندرگاہ سے لوڈ ہوا تھا، تاہم اس کے اچانک راستہ بدلنے کی وجوہات فوری طور پر سامنے نہیں آ سکیں۔

ادھر کیوبا پہلے ہی شدید توانائی بحران کا شکار ہے، جہاں ملک کو بجلی اور ایندھن کی شدید قلت کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق کیوبا کو آخری بار مارچ کے آخر میں روس سے آنے والے ایک آئل ٹینکر کے ذریعے سپلائی ملی تھی۔

توانائی ماہرین کے مطابق عالمی سیاسی کشیدگی، تجارتی پابندیوں اور سمندری راستوں پر بڑھتے ہوئے دباؤ کے باعث توانائی سپلائی چین میں غیر یقینی صورتحال بڑھتی جا رہی ہے، جس کا اثر چھوٹے ممالک کی معیشتوں پر زیادہ پڑ رہا ہے۔

امریکی پالیسیوں اور خطے میں توانائی سپلائی سے متعلق سخت مؤقف کے باعث بھی اس نوعیت کی ترسیلات پر اثرات مرتب ہونے کا خدشہ ظاہر کیا جا رہا ہے۔

Scroll to Top