رہبر معظم انقلاب اسلامی آیت اللہ سید مجتبی خامنہ ای نے موجودہ ایرانی پارلیمنٹ کے تیسرے سال کے آغاز کے موقع پر اپنے خصوصی پیغام میں کہا ہے کہ پارلیمنٹ کی قانون سازی عوامی ضروریات، امید آفرینی اور ملک کے روشن مستقبل کی تعمیر کے محور پر ہونی چاہیے۔
اپنے پیغام میں انھوں نے پارلیمنٹ کو ملت کا نچوڑ، دینی جمہوریت کی علامت اور اسلامی جمہوریہ ایران میں قانون سازی کا بنیادی ستون قرار دیا۔ حالیہ مہینوں میں ایرانی قوم نے ایمان، امید اور عملی استقامت کے ذریعے اپنی حقیقی طاقت دنیا پر ثابت کی ہے۔ ملت کی یہ بیداری نمائندوں کے لیے بھی ایک اہم امتحان ہے۔
رہبرِ انقلاب نے کہا کہ عوام کے حقیقی نمائندوں کو چاہیے کہ وہ ملت کی توقعات اور قومی مفادات کے مطابق اپنی ذمہ داریاں ادا کریں اور قانون سازی و نگرانی کے عمل کو مزید مؤثر بنائیں تاکہ اسلامی جمہوری ایران کے مستقبل کی سمت مضبوط بنیادوں پر استوار ہو سکے۔
انھوں نے نمائندوں پر زور دیا کہ وہ حکومت اور دیگر اداروں کے ساتھ تعاون کرتے ہوئے معاشی مسائل کے حل، مہنگائی اور گرانی پر قابو پانے، پیداوار اور روزگار کے فروغ، سائنسی و صنعتی ترقی، ثقافتی و اخلاقی بہتری، مالی بدعنوانی کے خاتمے اور محروم طبقات کی مدد کے لیے اپنی تمام صلاحیتیں بروئے کار لائیں۔
آیت اللہ خامنہ ای نے واضح کیا کہ پارلیمنٹ کے فیصلے اور قوانین عوام کے حقیقی مسائل اور قومی ضروریات سے براہِ راست جڑے ہونے چاہییں تاکہ معاشرے میں امید پیدا ہو اور عوام کو مستقبل کے حوالے سے ایک واضح اور مستحکم راستہ دکھائی دے۔ پارلیمنٹ اپنے مؤقف اور قراردادوں کے ذریعے امید آفرینی کا مرکز بن سکتی ہے۔
رہبرِ انقلاب نے مقاومتی اقتصاد، قومی اتحاد اور قومی سلامتی کو موجودہ حالات میں انتہائی اہم قرار دیتے ہوئے کہا کہ اقتصادی استحکام، افراط زر میں کمی، نقدی کے بہاؤ پر کنٹرول، قومی پیداوار میں اضافہ اور جنگی نقصانات کی بحالی کو ترجیحی بنیادوں پر آگے بڑھایا جانا چاہیے۔
انھوں نے قومی اتحاد اور یکجہتی کو ایران کی بڑی طاقت قرار دیتے ہوئے خبردار کیا کہ دشمن فوجی ناکامیوں کے بعد اب سماجی اختلافات اور داخلی تقسیم پیدا کرنے کی سازش کر رہا ہے، اس لیے تمام سیاسی، سماجی اور فکری حلقوں کو اتحاد کے تحفظ کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔
پیغام کے اختتام پر رہبر انقلاب نے پارلیمنٹ کے نمائندوں کی کامیابی کے لیے دعا کرتے ہوئے امید ظاہر کی کہ وہ ایرانی قوم کی خدمت، انقلاب اسلامی کے دفاع اور ملک کی ترقی کے لیے اپنی ذمہ داریاں بہترین انداز میں انجام دیں گے۔