تسلیم شدہ حقوق کی کسی دوسرے ملک سے توثیق کی ضرورت نہیں: بقائی

ایرانی وزارت خارجہ کے ترجمان اسماعیل بقائی نے پیر کے روز اپنی ہفتہ وار پریس بریفنگ میں کہا کہ ایران کا جوہری عدم پھیلاؤ معاہدے این پی ٹی کے تحت یورینیم افزودگی کا حق ناقابل مذاکرات ہے۔

انھوں نے کہا کہ امریکا کے ساتھ مذاکرات پاکستانی ثالثی کے ذریعے جاری ہیں اور ایران مسلسل اپنے اصولی مؤقف پر قائم ہے۔

بقائی نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران یورینیم افزودگی کے معاملے کو بارہا اٹھایا گیا، تاہم ایران نے ہر بار واضح کیا کہ اس حق پر نظرثانی کی کوئی گنجائش موجود نہیں۔

انھوں نے بتایا کہ مذاکراتی عمل بدستور جاری ہے۔ ایران نے ایک 14 نکاتی منصوبہ پیش کیا تھا جبکہ امریکی فریق نے بھی اپنے تحفظات سامنے رکھے، جس کے بعد تہران نے اپنا مؤقف واضح انداز میں پیش کیا۔

ایرانی ترجمان کے مطابق پاکستان کی ثالثی کے ذریعے امریکا کی جانب سے نظرثانی شدہ تجاویز موصول ہوئیں، جن کے جواب میں ایران نے دو رات قبل اپنا باضابطہ مؤقف بھی ارسال کر دیا۔

اسماعیل بقائی نے زور دے کر کہا کہ حقوق کا معاملہ مذاکرات کا حصہ نہیں بن سکتا، کیونکہ این پی ٹی کے تحت ایران کے افزودگی کے حقوق تسلیم شدہ ہیں اور انھیں کسی دوسرے ملک کی توثیق کی ضرورت نہیں۔

انھوں نے کہا کہ ایران مذاکرات کے ہر مرحلے پر اپنے اصولی مؤقف کا بھرپور دفاع کرے گا۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے اس بیان کے جواب میں کہ ایران کی افزودگی سرگرمیاں 20 سال کے لیے معطل کی جا سکتی ہیں، بقائی نے کہا کہ ایران کی موجودہ توجہ جنگ کے خاتمے پر مرکوز ہے اور تہران اپنے جوہری حقوق پر کوئی سمجھوتا نہیں کرے گا۔

Scroll to Top